لاہور (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیائے خورونوش کی طلب اور رسد کی مکمل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں خلیجی ممالک کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے، اشیا کی خلیجی ممالک میں برآمد کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، اشیائے خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلی معیار یقینی بنایا جائے۔
اتوار کو وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورت حال اور وافر اشیا کی برآمدت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں موجود اشیائے خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اشیائے خورو نوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی چیز کی قلت نہیں، پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ میں برآمد کی وسیع استعداد موجود ہے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صورت حال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورو نوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت دی ہے کہ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیا خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، برادر خلیجی ممالک میں اشیا خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلی معیار یقینی بنایا جائے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیا خورونوش برآمد کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔وزیرِاعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کر دی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی جب کہ انہوں نے برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کردی۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا جام کمال خان، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی، اجلاس میں صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ شعبے کی نجی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
