بیجنگ(شنہوا)
چین جب اندرونی کھپت کو بڑھانے اور عوامی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو تعطیلات کے نظام اور تنخواہ کے ساتھ ملنے والی چھٹیوں کی پالیسی سالانہ اجلاسوں میں زیرِ بحث آئی۔ ان اجلاسوں میں قومی مقننہ اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے نے شہریوں کو تعطیلات کے شیڈول اور تنخواہ دار چھٹیوں کے استعمال میں زیادہ لچک دینے کے اقدامات تجویز کیے۔
اس سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ جہاں حالات اجازت دیں وہاں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ کے لیے موسمِ بہار اور خزاں کی چھٹیاں متعارف کروائی جائیں، جبکہ مرحلہ وار (Staggered) تنخواہ دار چھٹیوں کے نظام کو بھی نافذ کیا جائے۔
یہ تجاویز اس بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں کہ تفریح اور فارغ وقت نہ صرف لوگوں کی فلاح کے لیے اہم ہے بلکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں اخراجات اور کھپت کو بڑھانے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
تعطیلات پر بڑھتی ہوئی توجہ پالیسی سوچ میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں 2024 کی حکومتی رپورٹ میں تنخواہ دار چھٹیوں کے مکمل نفاذ پر زور دیا گیا تھا اور 2025 کی رپورٹ میں چھٹیوں کے نظام کو بہتر بنانے کی بات کی گئی تھی، وہیں اس سال کی رپورٹ میں مرحلہ وار چھٹیوں کا تصور پیش کیا گیا تاکہ سال بھر سفر اور تفریحی سرگرمیاں زیادہ متوازن انداز میں تقسیم ہوں۔
اس طریقے سے اکتوبر میں ہونے والی مشہور “گولڈن ویک” جیسی مصروف تعطیلات کے دوران دباؤ کم ہو سکتا ہے اور پورے سال میں کھپت زیادہ مستحکم رہ سکتی ہے۔
نیشنل پیپلز کانگریس کے رکن اور ہانگ کانگ میں سینوپیک کے چیف سپلائی چین آفیسر گورڈن لام نے کہا کہ مرحلہ وار تنخواہ دار چھٹیوں کو فروغ دینے سے کھپت صرف “گولڈن ویک” کے دوران ہونے والے اچانک اضافے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سال بھر زیادہ متوازن انداز میں جاری رہے گی۔
ان کے مطابق اس سے سیاحتی تجربہ بہتر ہوگا، صارفین کے لیے ماحول بہتر بنے گا اور سیاحتی مقامات اور عوامی سہولیات پر بھیڑ بھی کم ہوگی۔
پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں موسمِ بہار اور خزاں کی چھٹیوں کی تجویز نے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کے مطابق اس سے خاندان آف سیزن میں سفر کر سکیں گے۔
2025 میں جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان میں ایک پائلٹ پروگرام نے اس کے ممکنہ اثرات کی جھلک دکھائی۔ نومبر میں پانچ دن کی خزاں کی چھٹیوں کے دوران سیاحتی مقامات کے ٹکٹوں کی بکنگ 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں چار گنا سے زیادہ بڑھ گئی، جبکہ صوبائی دارالحکومت چینگدو سے پروازوں کی بکنگ میں ہفتہ وار بنیاد پر 22 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم قانون سازوں اور مشیروں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کو مؤثر بنانے کے لیے اضافی اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔
ایک عام سوال یہ ہے: “اگر بچوں کو چھٹی ملے لیکن والدین کو نہ ملے تو وہ اکٹھے سفر کیسے کریں گے؟”
نیشنل پیپلز کانگریس کی رکن اور انہوئی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی نائب سربراہ ژاؤ وان پنگ نے تجویز دی کہ تنخواہ دار چھٹیوں کے نظام کو اسکولوں کی تعطیلات کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر سکیں۔
چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے رکن اور شنگھائی جیاو تونگ یونیورسٹی کے پروفیسر لو منگ نے کہا کہ اسکولوں کی چھٹیوں کے دوران ملازمین کو زیادہ لچک دی جانی چاہیے تاکہ والدین اپنی شفٹ تبدیل کر سکیں یا چھٹی لے سکیں اور بچوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر والدین چھٹی نہ لے سکیں تو اسکول اور کمیونٹی تنظیمیں حکومتی تعاون سے دلچسپی کی کلاسز، مطالعاتی دوروں اور سیر و تفریح جیسی سرگرمیاں بھی ترتیب دے سکتی ہیں۔
اگرچہ تعطیلاتی اصلاحات میں عوامی دلچسپی بہت زیادہ ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نفاذ کے لیے کارکنوں کی ضروریات اور کاروباری اداروں کی عملی مشکلات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
کچھ سیاسی مشیروں نے تجویز دی ہے کہ کمپنیوں کی طرف سے چھٹیوں کے قوانین پر عمل کو ٹیکس مراعات یا کریڈٹ اسکورنگ سے منسلک کیا جائے تاکہ لیبر پالیسیوں پر بہتر عملدرآمد کو فروغ دیا جا سکے۔
پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نیشنل پیپلز کانگریس کے رکن تیان شوان نے کہا کہ متعوضی کام کے دنوں (Compensatory workdays) کے نظام میں اصلاح کی جانی چاہیے، کیونکہ اس میں اکثر لوگوں کو تعطیلات سے پہلے یا بعد میں اضافی دن کام کرنا پڑتا ہے۔
وسیع معاشی نقطۂ نظر سے ان کا کہنا تھا کہ ایک بہتر تعطیلاتی نظام سماجی ترقی کو تیز کر سکتا ہے اور سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور ایونٹس جیسی صنعتوں کو فروغ دے سکتا ہے۔
لیاؤننگ یونیورسٹی کے صدر اور نیشنل پیپلز کانگریس کے رکن یو میاؤجیے نے کہا کہ بعض اداروں میں ایسا کام کا کلچر موجود ہے جہاں چھٹی لینے کو کم محنت یا کم وابستگی سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملازمین اپنی جائز چھٹیاں بھی استعمال نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط قانونی تحفظات کی ضرورت ہے کہ چھٹی لینے سے ملازمین کی کارکردگی کے جائزے یا کیریئر میں ترقی پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
