نیویارک (سب نیوز)اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطی میں فوری طور پر دشمنیوں کے خاتمہ کرکے مستقل جنگ بندی قائم کی جائے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
سلامتی کونسل میں 1737کمیٹی (ایران)پر بریفنگ کے موقع پر پاکستان سفیر نے مطالبہ کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں، ہماری تمام کوششیں اسی سمت میں مرکوز ہیں۔اپنے خطاب مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی میں اس کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2788 منظور کی تھی جس میں تمام تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر منشورِ اقوامِ متحدہ اور اس قرارداد کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا تاکہ موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس سلسلے پر قابو پایا جا سکے اور اس مہلک چکر کو روکا جا سکے جو حالیہ برسوں میں افسوسناک طور پر اس خطے کو بار بار اپنی لپیٹ میں لیتا رہا ہے۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ کونسل اب بھی 1737کمیٹی کے معاملے پر منقسم ہے۔ بدقسمتی سے یہ تقسیم ذیلی اداروں کے چیئرمینوں کی تقرری پر اتفاقِ رائے میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے باعث ان اداروں کے کام پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا ہمارا موقف ہے کہ 1737 کمیٹی سے متعلق معاملات کو کونسل اور اس کے ذیلی اداروں کے معمول کے کام میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ ہم اس امر کا بھی نوٹس لیتے ہیں کہ اس معاملے پر رپورٹ کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، جو آج کے اجلاس کی بنیاد بننی چاہیے تھی۔پاکستانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ جون کے بعد ہونے والی پیش رفت اور ایران پر بلااشتعال اور بلاجواز حملوں سے شروع ہونے والی موجودہ صورتِ حال نے ایران کے جوہری معاملے کے تناظر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری کے تعطل نے ایک ایسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جو گزشتہ چند مہینوں سے مسلسل ابتری کی جانب گامزن تھا۔ تاہم جو چیز تبدیل نہیں ہوئی وہ ان بنیادی اصولوں اور کثیرالجہتی جذبے کی مسلسل اہمیت ہے جنہوں نے جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن کی تشکیل اور 2015 میں قرارداد 2231 کی متفقہ منظوری کی راہ ہموار کی۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ حتی کہ موجودہ تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھی یہ بات واضح ہے کہ پائیدار حل انہی آزمودہ اصولوں کو اپنانے میں مضمر ہے، نہ کہ انہیں ترک کرکے قلیل النظر پالیسیوں کو اختیار کرنے میں۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن ایک منفرد معاہدہ تھا جو مکالمے، سفارت کاری اور عملیت پسندی پر مبنی ایک طرزِ فکر کا مظہر تھا۔ یہ نہایت محنت طلب اور طویل مگر تعمیری مذاکرات کا نتیجہ تھا۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ اس معاہدے نے باہمی اقدامات کی بنیاد پر فریقین کے خدشات کو جامع طور پر حل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کیا، اور اس طرح تنازعات کے پرامن حل کے اس اصول کی عکاسی کی جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی تھی، اور آج بھی یہی ہمارا بنیادی موقف ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے گزشتہ ستمبر پیش کی گئی اس مسودہ قرارداد کی حمایت کی تھی جس کا مقصد سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں چھ ماہ کی تکنیکی توسیع دینا تھا، تاکہ سفارتی روابط اور مذاکرات کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے۔ ہم نے اس صدارتی مسودہ قرارداد کی بھی حمایت کی تھی جس میں قرارداد 2231 کی شرائط کے مطابق پابندیوں کے خاتمے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔
پاکستانی سفیر نے کہا یہ بات واضح ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور تعمیری روابط ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ اس کے باوجود افسوس کہ سفارت کاری کو ترک کرکے عسکری ذرائع کو ترجیح دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان پیش رفتوں کے بارے میں اس ایوان اور دیگر فورمز پر اپنا واضح موقف بیان کیا ہے۔ ہم نے طاقت کے ہر استعمال، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ جوہری تنصیبات پر حملے مقامی آبادی اور پورے خطے کے عوام کے لیے سنگین ماحولیاتی اور حفاظتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔عاصم افتخار نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ آئی اے ای اے وہ ادارہ ہے جو رکن ممالک کی جانب سے جوہری حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کی تصدیق معروضی، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد انداز میں تکنیکی بنیادوں پر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اس قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کے قابل بنایا جانا چاہیے اور ایران میں اس کی تصدیقی سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔ہاکستانی سفیر نے کہا کہ ہم ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ سفارت کاری اور مکالمہ تمام متنازع امور کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے رہنما اصول ہونے چاہئیں، اور یہ عمل متعلقہ فریقین کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے مطابق ہونا چاہیے۔ صرف معروضی، منصفانہ اور قواعد پر مبنی گفتگو ہی اس مقصد کے حصول کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان کا مشرق وسطی میں مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
