Thursday, March 12, 2026
ہومتازہ تریننوجوانوں کو از خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے رہنمائی کی ضرورت ہے

نوجوانوں کو از خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے رہنمائی کی ضرورت ہے

اسلام آباد ( سب نیوز): فریڈم گیٹ پراسپیرٹی نے اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے اشتراک سے نوجوانوں کو درپیش روزگار کے بحران اور کاروباری مواقع کے موضوع پر ایک مکالمے کا انعقاد کیا جس میں پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، ترقیاتی شعبے کے نمائندوں اور نوجوان طلبا نے شرکت کی۔ مکاsلمے کے دوران پاکستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور پائیدار معاشی مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شہباز طارق کی کتاب “فرام آئیڈیاز ٹو امپیکٹ” کا مختصر تعارف بھی پیش کیا گیا۔


نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن نیوٹیک کی چیئرپرسن گل مینا بلال احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں نوجوانوں کو عملی مہارتوں اور فنی تربیت سے آراستہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنی تعلیم اور کاروباری رجحان کو فروغ دینے سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ ملازمت ڈھونڈنے کی بجائے خود روزگار پیدا کرنے والے بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں انڈونیشیا کے سفارت خانے کے منسٹر کاؤنسلر برائے اطلاعات، سماجی و ثقافتی امور رحمت ہندیارتا کسومہ نے انڈونیشیا میں نوجوانوں کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مؤثر پالیسیوں، مہارتوں کی تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے خیالات کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔


قبل ازیں چیف ایگزیکٹو آفیسر فریڈم گیٹ پراسپیرٹی محمد انورنے مکالمے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدت، کاروباری سوچ اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت، جامعات، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے باہمی اشتراک سے نوجوانوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔


شہزاد افضل کیانی، ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ہمدرد یونیورسٹی، نے کہا کہ جامعات، صنعت اور ترقیاتی اداروں کے درمیان شراکت داری نوجوانوں میں کاروباری رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔


اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان کے پروگرام منیجر سید رضا علی نے شفافیت، جدت اور نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ حالیہ مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا چار کروڑ زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر شہباز طارق، ہیڈ آف ریسرچ ایف جی پی، نے نوجوانوں کے لیے کاروباری سوچ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مناسب رہنمائی، علم اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے نوجوان اپنے خیالات کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کے دوران ڈاکٹر انصر عباس، ایسوسی ایٹ ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز ہمدرد یونیورسٹی، نے جامعات کے کردار پر روشنی ڈالی جبکہ وقاص خلیق، سی ای او سمارٹ سولر لاہور، نے ایک عملی کاروباری مثال پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدت پر مبنی کاروباری اقدامات کی ترغیب دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔