Thursday, March 12, 2026
ہومکامرسچین معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم، داخلی مارکیٹ اور ٹیکنالوجی پر زور

چین معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم، داخلی مارکیٹ اور ٹیکنالوجی پر زور

بیجنگ(شنہوا)

چین نے 2026 اور اس کے بعد کے ممکنہ خطرات اور غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

اس موسمِ سرما میں جب سیاح شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ میں بڑی تعداد میں پہنچے — جو کبھی ایک صنعتی مرکز تھا اور اب برف اور برفانی کھیلوں کی سیاحت کا بڑا مرکز بن چکا ہے — اسی دوران جنوب مغربی شہر چونگ چھنگ میں قائم آٹو کمپنی سیریس نے اپنی دس لاکھویں ذہین برقی گاڑی تیار کر کے فیکٹری سے باہر نکالی۔

اسی دوران مال بردار بحری جہاز اور ریلوے ٹرینیں عالمی تجارتی راستوں پر سرگرم رہیں، جس کے نتیجے میں 2026 کے پہلے دو مہینوں میں چین کی بیرونی تجارت دوبارہ دوہرے ہندسوں کی شرحِ نمو تک پہنچ گئی۔

یہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ چین کی معیشت نے نئے سال کا آغاز قابلِ ذکر مضبوطی کے ساتھ کیا ہے۔

اس وقت جاری قومی قانون ساز اجلاس میں چینی پالیسی ساز اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد اقدامات تیار کر رہے ہیں۔ ان میں مضبوط داخلی مارکیٹ کی تعمیر، تکنیکی جدت کو تیز کرنا اور اعلیٰ معیار کی بیرونی کھلے پن کی پالیسی کو مزید وسعت دینا شامل ہے، تاکہ معیشت بیرونی غیر یقینی حالات اور اندرونی چیلنجز کے باوجود اعلیٰ معیار کی ترقی جاری رکھ سکے۔

بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات، سست عالمی معیشت اور کمزور داخلی طلب کے باوجود چین نے اپنی معاشی مضبوطی برقرار رکھنے پر پختہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

حکومتی ورک رپورٹ میں کہا گیا ہے:
“چین کی طویل مدتی ترقی کی بنیادیں اور اس کا بنیادی رجحان تبدیل نہیں ہوا۔ وقت کے ساتھ چین اپنے نظام کی طاقت اور ایک بڑے ملک کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو مزید ثابت کر رہا ہے۔”

مضبوط داخلی مارکیٹ کی تعمیر

رپورٹ کے مطابق “مضبوط داخلی مارکیٹ کی تعمیر” اس سال کے اہم ترین اقتصادی اہداف میں شامل ہوگی۔

داخلی طلب بڑھانے کے لیے مجوزہ اقدامات میں شامل ہیں:
• شہری اور دیہی باشندوں کی آمدنی بڑھانے کا منصوبہ
• مالی و مالیاتی ہم آہنگی کے لیے 100 ارب یوآن کا خصوصی فنڈ
• صارفین کو پرانی اشیا بدلنے کے پروگرام کی حمایت کے لیے 250 ارب یوآن کے طویل مدتی خصوصی سرکاری بانڈز کا اجرا

چینی سوشل سائنسز اکیڈمی کے محقق اور قومی سیاسی مشیر ہوانگ چون ہوئی کے مطابق:

“بیرونی ماحول میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر داخلی طلب کو ترجیح دینا چین کی اقتصادی پالیسی کے لیے انتہائی اہم ہے۔”

چونکہ چین اس وقت زیادہ پیداوار لیکن کم طلب کے عدم توازن کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے رپورٹ میں کئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، مثلاً:
• کم آمدنی والے طبقات کی آمدنی میں اضافہ
• جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بڑھانا
• اجرت اور سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانا

شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے قانون ساز چوان ہینگ کے مطابق یہ اقدامات:

“بنیادی طور پر صارفین کی خریداری کی طاقت کو مضبوط کریں گے۔”

چین نئے شعبوں میں کھپت بڑھانے پر بھی توجہ دے گا، جن میں شامل ہیں:
• کھیلوں کی معیشت
• ثقافت اور سیاحت پر خرچ
• “AI + کھپت” یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے صارفاتی مواقع پیدا کرنا

ماہرین کے مطابق یہ پالیسیاں بدلتی ہوئی صارف طلب کے مطابق ہیں اور یہ روزگار میں اضافہ، صنعتی اپ گریڈیشن اور طلب و رسد کے درمیان بہتر توازن پیدا کر سکتی ہیں۔

چین کا مقصد یہ بھی ہے کہ گھریلو کھپت کا جی ڈی پی میں حصہ نمایاں طور پر بڑھایا جائے اور داخلی طلب کو اقتصادی ترقی کا مرکزی محرک بنایا جائے۔ یہ ہدف 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026–2030) کے مسودے میں شامل ہے۔

ترقی کے نئے محرکات

عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود چین نئی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔

اہم اقدامات میں شامل ہیں:
• روایتی صنعتوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
• انٹیگریٹڈ سرکٹس اور لو-الٹیٹیوڈ اکانومی جیسے ابھرتے شعبوں کو فروغ
• مستقبل کی صنعتوں جیسے کوانٹم ٹیکنالوجی اور ایمباڈیڈ AI کی منصوبہ بندی

حکومتی رپورٹ میں پہلی بار “سمارٹ اکانومی کی نئی شکلوں کی تخلیق” کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

تیانجن کی نانکائی یونیورسٹی کے نائب صدر اور قانون ساز چن جون کے مطابق:

“یہ صرف ایک ٹیکنالوجی کے استعمال سے آگے کی بات ہے۔ اس کا مطلب ہے AI کا حقیقی معیشت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور صنعتی نظام کے ساتھ گہرا انضمام، جو چینی معیشت کی بنیادی ساخت کو بدل رہا ہے۔”

چین پہلے ہی اس میدان میں مضبوط بنیاد رکھتا ہے:
• عالمی AI پیٹنٹس کا تقریباً 60 فیصد چین کے پاس ہے
• ذہین کمپیوٹنگ صلاحیت 1,590 ای فلوپس سے زیادہ ہو چکی ہے
• صنعتی انٹرنیٹ ایپلی کیشنز 41 بڑی صنعتی اقسام میں استعمال ہو رہی ہیں

قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کے سربراہ ژینگ شان جیے کے مطابق:

2030 تک چین کے AI سے متعلق شعبوں کا حجم 10 ٹریلین یوآن سے زیادہ ہو جائے گا۔

اگلے پانچ سالوں میں کئی کھربوں یوآن کے نئے مارکیٹ سیکٹرز بھی ابھرنے کی توقع ہے۔

کھلے پن کی پالیسی جاری

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود چین نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے کا عزم برقرار رکھا ہے۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق چین:
• خدمات کے شعبے میں مزید مارکیٹ رسائی دے گا
• ٹیلی کمیونیکیشن، بایوٹیکنالوجی اور مکمل طور پر غیر ملکی ملکیت والے اسپتالوں کے لیے مزید تجرباتی منصوبے شروع کرے گا
• ڈیجیٹل سیکٹر میں مزید کھلے پن کی پالیسی اپنائے گا
• سرحد پار خدماتی تجارت کی منفی فہرست کو مزید مختصر کرے گا

چین کے وزیرِ تجارت وانگ وینتاؤ کے مطابق:

جب کچھ ممالک تحفظ پسندی کی طرف جا رہے ہیں، چین اپنی بڑی مارکیٹ کو عالمی تعاون کے مواقع میں تبدیل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اس سال متوازن تجارت کو فروغ دے گا:
• برآمدات کو مستحکم رکھا جائے گا
• درآمدات کو بڑھایا جائے گا

ان کے الفاظ میں:

“برآمدات اور درآمدات گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں۔ جتنے زیادہ متوازن ہوں گے، گاڑی اتنی ہی مستحکم اور دور تک چلے گی۔”

چین مزید زرعی مصنوعات، اعلیٰ معیار کی صارف اشیا، جدید آلات اور اہم پرزہ جات درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین اس وقت 160 سے زائد ممالک اور خطوں کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی مارکیٹ بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی متوسط طبقے کی آبادی کی وجہ سے اس کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026–2030) کے دوران چین کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنائے گا، مارکیٹ تک رسائی بڑھائے گا اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مکمل قومی سلوک (نیشنل ٹریٹمنٹ) نافذ کرے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بڑی عالمی کمپنیوں نے بھی چین کی مارکیٹ پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) نے چین کی معاشی ترقی کی پیش گوئی بڑھا دی ہے جبکہ جے پی مورگن اور بلیک راک جیسی بڑی سرمایہ کاری کمپنیاں چین میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں۔

وزیر تجارت وانگ وینتاؤ نے کہا:

“اگلا چین بھی چین ہی ہے۔ ہم مزید غیر ملکی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ چین میں سرمایہ کاری کریں اور ترقی کریں۔”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔