Tuesday, March 10, 2026
ہومپاکستانورچوئل مذاکرات ،آئی ایم ایف کا جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18ارب کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ

ورچوئل مذاکرات ،آئی ایم ایف کا جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18ارب کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (سب نیوز)عالمی مالیاتی ادارہ(آئی ایم ایف)نے جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالر کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ کردیا اور آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی بھی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں جہاں وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متعلق ٹیکس تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پاکستان کے لیے معاشی خطرات اور بے یقینی میں اضافہ کر دیا ہے اور بہتری کے باوجود معاشی غیر یقینی اورخطرات برقرار ہیں۔حکام کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے البتہ ترسیلات زر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور سپر ٹیکس کا خاتمہ آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا، تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی کے لیے آئی ایم ایف سے منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باعث ملک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، فروری 2026 میں بنیادی یا کور انفلیشن 7.6 فیصد تک پہنچ گئی، خوراک، ایندھن، توانائی مہنگی ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے 4 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے، اسٹیٹ بینک جی ڈی پی گروتھ شرح 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد تک رہنے کے لیے پرامید ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالر کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے کذخائر 16.3 ارب ڈالر ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے نئے مالی سال کے بجٹ پر مزید مشاورت ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔