اسلام آباد (سب نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ایف بی آر محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے پرال کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی بھرتیوں اور پرال کو ایک فعال ادارہ بنانے پر معاشی ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ملک میں تیار کردہ ادویات کی سیریئلائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، آئرس اور دیگر ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد نظام نافذ العمل ہیں اور کئی جلد فعال ہو جائیں گے، پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹیکس، یونٹ کائونٹنگ، بارکوڈ سکیننگ، سٹیمپنگ، سیریئلائزیشن اور دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔بریفنگ کے مطابق شوگر، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کے تمام کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی کی جارہی ہے اور اس اقدام سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل ، چمڑے، کاغذ، آٹوموبائل، مشروبات اور دیگر شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے اقدامات جاری ہیں جس سے اربوں روپے اضافی ٹیکس آمدنی ہوگی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ شفافیت یقینی بنانے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے قانون میں ترامیم کی گئی ہیں، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے ذریعے 30 جون 2026 تک ٹیکس کی مد میں 80 ارب روپے آمدن وصول ہونے کی توقع ہے، جولائی 2025 تا جنوری 2026 ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو 102.9 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، جون 2026 تک زیر التوا ٹیکس مقدمات سے ٹیکس کی مد میں 369 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹیو ٹیم فعال ہو چکی ہے، پرال کا ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، جنوری اور فروری کے مہینوں میں 800 ارب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہو چکی جبکہ اپریل 2026 میں 3 کھرب روپے کی ڈیجیٹل انوائسنگ کا ہدف بھی حاصل ہو سکے گا۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایف بی آر کا نیا ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر تیار ہو چکا، ملک میں سمگلنگ کی روک تھام اور کارگو ٹریکنگ کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ کا نظام بالخصوص ای بلٹی کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔
وزیر اعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
