تہران (سب نیوز)ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اب تک کم از کم 1255 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 200 بچے اور 11 طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ جبکہ آئل تنصیبات پر بمباری کے باعث دارالحکومت تہران میں زہریلا دھواں پھیل گیا ہے۔
الجزیرہ سے پیر کے روز گفتگو کرتے ہوئے علی جعفریان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں آٹھ ماہ سے لے کر 88 سال تک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر متاثرین عام شہری تھے جو حملوں کے وقت اپنے گھروں میں یا اپنے کام کی جگہوں پر موجود تھے۔نائب وزیر صحت کے مطابق ان حملوں میں 12 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر افراد جھلسنے اور ملبے تلے دبنے کے باعث زخمی ہوئے۔علی جعفریان نے بتایا کہ اب تک ایران میں 29 طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 10 کو بند کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ 52 ہیلتھ سینٹرز، 18 ایمرجنسی سروسز کے مقامات اور 15 ایمبولینسز کو بھی نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد صحت کے حوالے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ہفتے کی رات جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کی آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔علی جعفریان نے بتایا کہ تہران میں گہرے دھویں کے باعث شہر کا آسمان ڈھک گیا تھا اور پورا شہر گزشتہ روز دوپہر تک تاریکی میں ڈوبا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں شمال مشرقی تہران میں آغدسیہ آئل گودام، جنوبی تہران میں تہران ریفائنری اور مغربی تہران میں شہرآن آئل ڈپو میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے تہران میں ایندھن ذخیرہ کرنے والی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر فوجی انفراسٹرکچر چلانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ایرانی نائب وزیر صحت نے خبردار کیا کہ زہریلا دھواں بچوں اور بزرگوں سمیت کمزور افراد میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، اور شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ گھروں میں رہیں اور کھڑکیاں بند رکھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تیزابی بارش زمین کو آلودہ کر سکتی ہے اور اس کے طویل مدتی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔علی جعفریان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی فوجی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی فوجی ہدف ہے۔
ان کے مطابق 28 فروری سے جاری حملوں کے بعد ایران کے 200 سے زائد شہروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور زیادہ تر اہداف شہری نوعیت کے تھے۔پیر کے روز بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری جاری رہی، جبکہ قم اور تہران میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال کشیدگی کم ہونے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔
امریکی بمباری میں 200بچوں سمیت 1255شہری جاں بحق، ایرانی وزارتِ صحت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
