اسلام آباد (سب نیوز) وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں کفایت شعاری سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا جبکہ ورک فرام ہوم اور ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی میں تعطل نہ لانے، آن لائن کام کرنے والوں کو بلارکاوٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ ارکان بھی قومی کفایت شعاری پلان میں اپنا حصہ ڈالیں گے، شہبازشریف نے صورتحال بہتر ہونے تک تنخواہوں اور مراعات میں بھی کمی کا عندیہ دیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاوس میں کفایت شعاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا جس دوران اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطاللہ تارڑ، مصدق ملک ، ہارون اختر اور چاروں صوبوں کے نمائندے اور متعلقہ اداروں کے اعلی سرکاری حکام شریک ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو بریفنگ دی ، بتایا گیا کہ علاقائی، عالمی صورتحال کیپاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،توانائی فراہمی،عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھا کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں۔
توانائی کے دانشمندانہ استعمال اور ایندھن کے محتاط استعمال پر بھی زور دیا گیا ، سرکاری وسائل کی بچت،توانائی کے موثر استعمال کیلئے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ۔چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بھی عالمی کشیدگی کے تناظر میں پلان سامنے رکھا ، صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال کی سفارشات سے آگاہ کیا گیا ، وزیراعظم نے انتظامی تیاریوں کے حوالے سے صوبوں کو موثر عملدرآمد کی ہدایت کی۔وزیراعظم کی ہدایت پر صوبوں کی مشاورت سے قومی کفایت شعاری پالیسی کا جائزہ لیا گیا، عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا جبکہ کفایت شعاری پالیسی پر قومی سطح پر یکساں عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ۔
وزیراعظم کا سرکاری سطح پر کفایت شعاری پلان پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر زور دیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مشکل صورتحال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔ شہبازشریف نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلی سرکاری افسران کو خصوصی ہدایات جاری کر دیں ، موجودہ بین الاقوامی صورتحال کیتناظر میں معاشی استحکام کیلئے بروقت اقدامات ناگزیر قرار دیئے۔ان کا کہناتھا کہ ملکی پیداوار،برآمدات،غذائی تحفظ متاثرنہ ہونے پائے استعمال یقینی بنانا ضروری ہے،کفایت شعاری کا بوجھ معاشرے کے تمام طبقات کو منصفانہ طور پر برداشت کرنے پر زور دیا گیا ۔مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو اس حوالے سے مثال قائم کرنے کی تلقین کی گئی ، کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کیمناسب ذخائر موجود ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ ارکان بھی قومی کفایت شعاری پلان میں اپنا حصہ ڈالیں گے، شہبازشریف نے صورتحال بہتر ہونے تک تنخواہوں اور مراعات میں بھی کمی کا عندیہ دیا ۔
