Monday, March 9, 2026
ہومتازہ ترینپاکستان جرمنی تجارتی حجم میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے: عاطف اکرام شیخ

پاکستان جرمنی تجارتی حجم میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے: عاطف اکرام شیخ

اسلام آباد: پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کا دورہ کیا جہاں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون، چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین، میاں اکرم فرید سمیت دیگر نمائندگان بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت اور پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جرمنی کا باہمی تجارتی حجم ساڑھے تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو دونوں ممالک کی صلاحیت کے مقابلے میں کم ہے جبکہ دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ پاکستان جرمنی کو ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جوتے اور سرجیکل آلات برآمد کر رہا ہے جبکہ جرمنی سے پاکستان کو مشینری، کیمیکل مصنوعات، فارماسیوٹیکل، الیکٹریکل آلات اور موٹر گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں آئی ٹی، قابل تجدید توانائی، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں اور جرمن کمپنیوں کو آئی ٹی اور قابل تجدید توانائی سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور وسیع مارکیٹ جرمن سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتی ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی کے مطابق پاکستان میں 40 سے زائد جرمن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو روزگار اور مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی دنیا کا ترقی یافتہ صنعتی ملک ہے جو انجینئرنگ، آٹومیشن، گرین انرجی اور جدید مینوفیکچرنگ میں مہارت رکھتا ہے، اگر جرمنی اپنی جدید ٹیکنالوجی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے تو پاکستان کی صنعتی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ آٹو موبائل، قابل تجدید توانائی، ووکیشنل ٹریننگ، زرعی ٹیکنالوجی اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا جبکہ جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں جوائنٹ وینچرز، صنعتی تعاون اور مہارت کی تربیت کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے، مشترکہ نمائشوں اور بزنس فورمز کے انعقاد سے کاروباری روابط مزید مضبوط ہوں گے اور جرمن سفارت خانہ پاکستانی بزنس کمیونٹی کے لیے ویزہ پراسیس میں آسانی پیدا کرے۔

جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے اس موقع پر کہا کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ اپنے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن کمپنیاں گرین انرجی، صنعتی ٹیکنالوجی، ووکیشنل ٹریننگ اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان سے تعلقات کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کے ذریعے نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔

جرمن سفیر کے مطابق جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی تعداد 6 ہزار سے 10 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے 2025 سے 2027 کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز اور تکنیکی تعاون کی مد میں پاکستان کے لیے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ جرمنی نے گزشتہ سال پاکستان کے لیے 114 ملین یورو کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔