Sunday, March 8, 2026
ہومتعلیماستاد کی توقیر کی بحالی: خصوصی پے اسکیل، ٹیچر کارڈ اور نیشنل ٹیچنگ کونسل کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ڈاکٹر عمران نیازی ،اے پی، پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی

استاد کی توقیر کی بحالی: خصوصی پے اسکیل، ٹیچر کارڈ اور نیشنل ٹیچنگ کونسل کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ڈاکٹر عمران نیازی ،اے پی، پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی

راولپنڈی ۔ (سب نیوز) پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران نیازی نے کہا ہے کہ استاد کا کھویا ہوا رتبہ واپس دلانے کے لیے حکومت کو ‘ٹیچر پے اسکیل’، ‘ٹیچر کارڈ’ اور ‘نیشنل ٹیچنگ کونسل’ جیسے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ہم استاد کو ‘قابلِ رحم کردار’ کے بجائے ‘باوقار شخصیت’ نہیں بنائیں گے، ملک کا بہترین ٹیلنٹ اس شعبے کا رخ نہیں کرے گا۔

اپنے آرٹیکل معمارِ قوم یا معاشرے کا ‘بے چارہ’؟ نئی نسل تدریس سے کیوں دور ہے؟ میں ڈاکٹر عمران نیازی نے ایک فکر انگیز مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج کسی پوش علاقے کے مہنگے کیفے میں بیٹھے نوجوان سے پوچھیں تو وہ سافٹ ویئر انجینئرنگ یا ڈیٹا سائنس کا نام تو لیتا ہے، مگر ‘استاد’ بننا کسی کی ترجیح نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیشہ جسے ‘پیغمبرانہ’ کہا جاتا تھا، آج نئی نسل کے لیے آخری آپشن (Last Option) بن چکا ہے۔

تحریر میں اس تلخ حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ معاشرے میں ایک استاد کی تصویر “پرانی موٹر سائیکل، ہاتھ میں رجسٹر اور سفید بالوں میں چھپی فکرِ معاش” بن کر رہ گئی ہے۔ ڈاکٹر عمران نیازی کے مطابق، “جب ایک نوجوان اپنے آئیڈیل استاد کو الیکشن ڈیوٹی میں دھکے کھاتے، پولیو کے قطرے پلاتے یا مردم شماری کے لیے گلی گلی گھومتے دیکھتا ہے، تو اس کا آئیڈیل ازم دم توڑ دیتا ہے اور وہ تدریس کے بجائے کسی بااختیار افسر بننے کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ 17 کے سرکاری استاد کی تنخواہ نجی کمپنی کے جونیئر مینیجر سے بھی کم ہے، جبکہ نجی سکولوں میں ‘ایجوکیشن مافیا’ پی ایچ ڈی اسکالرز کو محض بیس پچیس ہزار کی پیشکش کرتا ہے، جس کی وجہ سے قابل لوگ قلم چھوڑ کر بیرونِ ملک مزدوری پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر عمران نیازی نے استاد کی توقیر کی بحالی کے لیے حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی پے سکیل کے ساتھ اساتذہ کے لیے بیوروکریسی سے بہتر تنخواہ کا ڈھانچہ ہونا چاہئیے۔ پی آئی اے، ریلوے اور خریداری پر خصوصی رعایت کے لیے ‘ٹیچر کارڈ’ کا اجرا کیا جائے۔وکلاء کی بار کونسل کی طرز پر اساتذہ کرام کے لئےپیشہ ورانہ لائسنسنگ کا نظام متعارف کرایا جائے۔’چاک اور ڈسٹر’ کے بجائے ‘کوڈنگ اور کریٹیویٹی’ کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹولز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔نجی سکولوں کے لیے کم از کم 50 ہزار روپے تنخواہ کی قانونی حد مقرر کی جائے۔

انہوں نے اپنے مضمون کا اختتام اس تنبیہ پر کیا کہ جب تک ایک استاد کلاس روم میں داخل ہوتے وقت گھر کے کرایے کی فکر میں رہے گا، وہ روشن خیال نسل پیدا نہیں کر سکے گا۔ پاکستان کا مستقبل اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ استاد کے ہاتھ میں موجود قلم میں بھی چھپا ہوا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔