اسلام آباد(سب نیوز) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع اور موثر شرکت داری فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی موثر نمائندگی پاکستان کی پائیدار ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اسلام خواتین کو عزت، وقار اور مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور معاشرے میں صنفی امتیاز یا ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ خواتین کو درپیش سماجی رکاوٹوں، عدم مساوات اور تشدد جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور خواتین کے لیے محفوظ ماحول، باوقار روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مثر قانون سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے رواں سال منظور ہونے والے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون 2026 کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون خواتین اور بچوں کو گھریلو استحصال اور تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور اس پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان میں خواتین کی نمایاں نمائندگی موجود ہے جو قانون سازی اور قومی معاملات میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے وومنز پارلیمانی کاکس اور خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمنگ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورمز خواتین کی سیاسی، سماجی اور معاشی بااختیاری کے فروغ اور پارلیمان میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے تعاون سے وومنز پارلیمنٹری کاکس کی جانب سے خواتین کو باہم منسلک کرنے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی جدید ایپ کی لانچنگ کو بھی خوش آئند قرار دیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایران میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے دوران 150 سے زائد اسکول کی طالبات کی شہادت پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم طالبات کی جانوں کا ضیاع جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کا دعوی کرنے والے عالمی اداروں کی اس سانحے پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے خلاف مظالم کے سدباب کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج اور فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے خواتین اور بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں، خصوصا خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے مظلوم خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین اعلی ترین انتظامی اور سیاسی عہدوں پر کامیاب کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم کلثوم نواز کی جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریکِ پاکستان اور جمہوری جدوجہد میں خواتین کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان باہمت خواتین نے قومی و جمہوری اقدار کے فروغ اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کی نصف سے زائد آبادی پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیے بغیر پائیدار اور جامع ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین خواتین کو مساوی حقوق اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور پارلیمان خواتین کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور معاشی بااختیاری کے لیے قانون سازی اور پالیسی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ بنایا جا سکے جو انصاف، برابری اور وقار کے اصولوں پر قائم ہو۔
