اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای)،وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے “ایجوکیشن پبلک فنانسنگ رپورٹ 26-2025” جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں تعلیمی اخراجات میں مجموعی طور پر 72 فیصد اضافہ ہوا، تاہم فی طالب علم اخراجات میں اب بھی واضح فرق پایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں یہ شرح 22,332 روپے ہے جبکہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحت یہ 72,124 روپے ہے، جو مختلف علاقوں کی مالی صلاحیت اور انتظامی ڈھانچے کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ تعلیمی بجٹ کو بتدریج جی ڈی پی کے 4 سے 6 فیصد تک لے جایا جائے اور موجودہ مالیاتی نظام میں صنف، علاقے اور اسکول کی بنیاد پر بجٹ سازی متعارف کرائی جائے تاکہ تعلیمی اخراجات کی شفافیت اور افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
جمعرات کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اس رپورٹ کے اجراء کے حوالے سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جو پی آئی ای، ورلڈ بینک اور برطانوی ادارے (ایف سی ڈی او) کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ وزیرِ مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم حسن ثقلین، ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا اور وائس چانسلر اے آئی او یو پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود بھی موجود تھے۔
وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز تعلیمی شعبے میں شفافیت اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، جس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور دور رس پالیسیاں مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔
تقریب سے عالمی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں سلیم سلامہ (برطانوی ہائی کمیشن)، ملیحہ حیدر (ورلڈ بینک)، اوریلیا آردیتو (یونیسف) اور ڈاکٹر نشاط ریاض (ملالہ فنڈ) نے بھی خطاب کیا اور رپورٹ کے نتائج کی تائید کی۔مقررین نے جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیمی بجٹ میں اضافے، صنفی بنیادوں پر بجٹ سازی اور تنخواہوں کے بجٹ کو متاثر کیے بغیر غیر تنخواہ جاتی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق 2019-20 سے 2025-26 کے دوران تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ فیصد کے لحاظ سے سب سے زیادہ اضافہ گلگت بلتستان میں 318 فیصد اور سندھ میں 286 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جہاں سندھ کا تعلیمی بجٹ 169 ارب روپے سے بڑھ کر 654 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ بڑے صوبوں میں پنجاب کے تعلیمی بجٹ میں 122 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں 141 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس وفاقی سطح پر یہ شرح محض 45 فیصد تک محدود رہی۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ موجودہ نظام اسکول سے باہر موجود 25.37 ملین بچوں (جن میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے) تک وسائل کی رسائی کو ٹریک کرنے سے قاصر ہے۔ سفارش کی گئی ہے کہ صنف، علاقہ اور اسکول کی سطح پر بجٹ سازی کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں بجٹ ٹیگنگ کا یکساں نظام اور بہتر کوڈز متعارف کرائے جائیں۔ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان اپنے عوامی اخراجات کو مؤثر بنا کر تعلیمی رسائی اور معیارِ تعلیم میں خاطر خواہ بہتری لا سکتا ہے۔
