ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیشی حکومت نے دارالحکومت ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں خاص طور پر امریکی سفارتخانے کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی ہے، جس کا مقصد موجودہ عالمی سیکیورٹی ماحول کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کو مضبوط کرنا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، پولیس کے ساتھ ساتھ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش یعنی بی جی بی کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ان اقدامات کا اعلان وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے امریکی سفیر برینٹ ٹی۔ کرسٹینسن سے ملاقات کے دوران کیا، جس میں دونوں فریقین نے دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور دوطرفہ سیکیورٹی تعاون سمیت اہم امور پر بات چیت کی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق، معمول کی پولیس تعیناتی کے علاوہ بی جی بی کے ارکان کو سفارتی علاقے کی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہائی الرٹ رہنے اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے امریکی سفیر کا استقبال کرتے ہوئے امریکا کو خاص طور پر سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں بنگلہ دیش کا قریبی شراکت دار قرار دیا، سفیر کرسٹینسن نے واشنگٹن کی خواہش دہرائی کہ وہ ڈھاکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔امریکی سفیر نے زور دیا کہ اسپیشل پروگرام فارایمبیسی آگمینٹیشن اینڈ ریسپانس کے لیے مفاہمتی یادداشت پر جلد دستخط کرنا ضروری ہے تاکہ امریکی سفارتخانے اور وسیع سفارتی علاقے کی سیکیورٹی کو بڑھایا جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر امریکی فنڈنگ کی دوبارہ تقسیم کا سبب بن سکتی ہے، جواب میں وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ اعلی سطح کی ضروری منظوریوں کے بعد حکومت پروگرام کے فوری نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔
غیر قانونی ہجرت کے مسئلے پر، امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش میں الیکٹرونک نیشنلٹی ویریفیکیشن یعنی ای این وی سسٹم متعارف کروایا جائے، انہوں نے کہا کہ کامیاب نفاذ کے بعد بنگلہ دیش امریکی امیگریشن پروسیجرز میںگرین زون کیٹیگری میں آ سکتا ہے۔امریکی سفیر برینٹ ٹی۔ کرسٹینسن نے بنگلہ دیش کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں طویل المدتی امریکی تعاون کو بھی اجاگر کیا، تفتیشی افسران سے لے کر ڈپٹی انسپیکٹر جنرل تک 2010 سے تقریبا 30,000 پولیس اہلکاروں نے امریکی اسپانسر شدہ تربیت اور سازوسامان حاصل کیا۔تاہم، انہوں نے نوٹ کیا کہ تربیت یافتہ اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ اور تبادلوں نے اس کے اثرات کو محدود کیا ہے۔
