اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مفتی راغب نعیمی نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سعودی عرب یا کوئی اور ملک، بالخصوص کوئی مسلم ملک ایران پر حملوں کی سازش کا حصہ بن سکتا ہے.اگرواشنگٹن پوسٹ نے کوئی الزام عائد کیا ہے تو جن ممالک یا فریقین پر الزام لگا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ خود اس کی وضاحت کریں اور اگر خبر غلط ہے تو الزام لگانے والوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ حکومتیں عموما اس نوعیت کی خبروں پر سخت ردِعمل دیتی ہیں، باقاعدہ نوٹس اور مقدمات دائر کیے جاتے ہیں، حتی کہ بین الاقوامی عدالتوں تک بھی معاملہ لے جایا جاتا ہے، اس لیے اگر یہ خبر بے بنیاد ہے تو اس کا قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ اسلامی ممالک کو باہمی مشاورت اور اتحاد کی فوری ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزرائے خارجہ، صدور، وزرائے اعظم اور اعلی حکومتی و سیاسی عہدیداران پر مشتمل فورمز تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔دنیا میں 58 اسلامی ممالک موجود ہیں، ان کا مشترکہ گروپ بنانا کوئی مشکل کام نہیں، بس شرط یہ ہے کہ نیت اور ارادہ موجود ہو۔ اگر اسلامی دنیا واقعی چاہے تو وہ اجتماعی طور پر اس بحران کا موثر حل نکال سکتی ہے۔مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ امریکا کے خلیجی ممالک میں فوجی اڈے موجود ہیں اور امریکا و اسرائیل نے مل کر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا، جبکہ مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر کے اس کی صفِ اول کی قیادت کو منظم طریقے سے ختم کر دیا گیا، جو بذاتِ خود ایک بہت بڑا اور سنجیدہ سوال ہے۔مذاکرات کسی مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ اسی دوران کسی ملک پر حملہ کر کے اس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقتور ریاستیں اپنی طاقت کے زور پر جو چاہیں کر سکتی ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ اس حملے سے اسلام کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچا ہے، جس کا کوئی حقیقی ازالہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ استقامت اور مقاومت کی علامت سمجھے جانے والے علی خامنہ ای اہلِ تشیع کے رہبرِاعظم تھے اور پوری دنیا میں ان کے لاکھوں کروڑوں ماننے والے موجود ہیں۔اس وقت امتِ مسلمہ بالخصوص اہلِ تشیع میں شدید غم و غصے کی کیفیت پائی جاتی ہے، جس میں کسی بھی ردِعمل کا امکان موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے بدلہ لینے کا اعلان سامنے آ چکا ہے، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ بدلے کی کیفیت کس انداز میں اور کس حد تک سامنے آتی ہے۔
