اسلام آباد: (سب نیوز) سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے کوٹہ سسٹم کو غیر شرعی قرار دینے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
بینچ نے کیس کی تفصیلی سماعت کے بعد نوٹس جاری کرتے ہوئے فیصلہ اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دیا۔
سماعت کے دوران بینچ کے ارکان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے درمیان مکالمے اہم رہے:
- جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا کوٹہ سسٹم اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے؟
- ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 27 میں واضح طور پر کوٹہ سسٹم بیان کیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے۔
- جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوٹہ سسٹم کا 40 سالہ دورانیہ ختم ہو چکا ہے۔
- ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ کوٹہ سسٹم کے دورانیے کو بڑھانے کے لیے قانون سازی ہوچکی ہے۔
- جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم موجود ہے۔
- ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ جی، صوبوں کی آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
- جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آپ یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ جن صوبوں کی آبادی کم ہے، وہ بڑھائیں؟
بینچ نے سماعت کے دوران کیس کے قانونی اور شرعی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور تمام دلائل کو ریکارڈ کیا۔
یہ اپیل ملک میں کوٹہ سسٹم کی قانونی حیثیت اور اس کی شرعی مطابقت کے حوالے سے اہم ہے، اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر آئندہ پالیسی اور قانون سازی پر پڑ سکتا ہے۔
