Monday, March 2, 2026
ہومتازہ ترینسپریم کورٹ آف پاکستان میں حقوقِ زوجیت سے متعلق اہم سماعت

سپریم کورٹ آف پاکستان میں حقوقِ زوجیت سے متعلق اہم سماعت

اسلام آباد: (آئی پی ایس) سپریم کورٹ آف پاکستان میں حقوقِ زوجیت کی ادائیگی اور عدالتی اختیار سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ججز کی جانب سے اہم آئینی و شرعی نکات پر سوالات اٹھائے گئے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت کسی خاتون کو زبردستی شوہر کے پاس بھجوا سکتی ہے؟ انہوں نے استفسار کیا کہ حقوقِ زوجیت کی بحالی کے کیس میں عدالت کا اختیار کس حد تک ہے؟ اگر خاتون عدالتی فیصلہ نہ مانے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا؟

جائیداد ضبطگی اور گرفتاری پر سوالات
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ دیوانی کے مطابق خاتون کی جائیداد ضبط ہوسکتی ہے اور گرفتاری بھی ممکن ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا جائیداد ضبطگی یا گرفتاری شریعی طور پر درست ہوگی؟

جسٹس عرفان سعادت نے بھی استفسار کیا کہ عدالت کسی خاتون کو حقوقِ زوجیت کی ادائیگی پر مجبور کیسے کر سکتی ہے؟ کیا خاتون کو شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟

سرکاری مؤقف

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نکاح ایک معاہدہ ہے اور جب تک برقرار ہے فریقین اس پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر خاتون شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ خلع لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شوہر عدالتی حکم نہ مانتے ہوئے نان نفقہ ادا نہ کرے تو اسے گرفتار کیا جاتا ہے، لہٰذا قانون شوہر اور بیوی دونوں کے لیے برابر تصور ہوگا۔

ججز کے مزید سوالات

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ اگر ضد میں خاتون کہے کہ نہ شوہر کے ساتھ جانا ہے اور نہ خلع لینی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ اسی طرح شوہر بھی یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ نہ ساتھ رکھوں گا اور نہ طلاق دوں گا، ایسی صورت میں قانونی راستہ کیا ہوگا؟

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جامع جواب طلب کر لیا گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔