Monday, March 2, 2026
ہومدنیاایران کے حملوں سے یو اے ای میں کتنا نقصان ہوا؟

ایران کے حملوں سے یو اے ای میں کتنا نقصان ہوا؟

بیکی اینڈرسن:
میں اب متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون، ریم بنت ابراہیم الہاشمی کو شامل کر رہی ہوں۔ ریم، آج صبح دبئی سے ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ۔ یہ بیان کرنا مشکل نہیں کہ یہ مناظر متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے کتنے چونکا دینے والے ہیں، جو اس ملک کو سلامتی اور استحکام کی علامت کے طور پر دیکھنے کے عادی ہیں، جبکہ ایران سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اپنی تاریخ کے “سب سے بھاری حملے” کی دھمکی دے رہا ہے۔ کیا آپ ہمیں اب تک کے اہداف اور جانی نقصان کی نوعیت اور وسعت کے بارے میں تازہ ترین صورتحال بتا سکتی ہیں، اور آج متحدہ عرب امارات کو مزید کس چیز کا سامنا ہو سکتا ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
بہت شکریہ بیکی، مجھے مدعو کرنے اور اپنے پروگرام میں شامل کرنے کے لیے شکریہ۔ یہ ہمارے لیے واقعی ایک غیر معمولی وقت ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم نے اس صورتحال سے بچنے کی بھرپور کوشش کی اور مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی حوصلہ افزائی کی۔ بدقسمتی سے، اس وقت ایران نے نہایت بلاجواز اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے خلیج اور اس سے آگے تک حملے کیے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین دفاعی نظاموں میں سے ایک موجود ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور یہاں رہنے والے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں گے۔

میں جانتی ہوں کہ بہت سے رہائشیوں کے لیے یہ خوفناک وقت ہے۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، ہم یہاں ایسی بلند آوازیں سننے کے عادی نہیں ہیں۔ لیکن یہ آوازیں دراصل دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی ہیں، اور جہاں نقصان ہوا ہے وہ زیادہ تر ملبے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں امارات کے تمام شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو یقین دلانا چاہیے کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین میزائل دفاعی نظام موجود ہے اور ہم ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں تاکہ سلامتی برقرار رہے۔

بیکی اینڈرسن:
ایران کی جانب سے یہ دھمکیاں پہلے ہی دی جا چکی تھیں کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جن میں امارات بھی شامل ہے۔ لیکن یہ حملے اس سے کہیں زیادہ وسیع رہے ہیں۔ مثال کے طور پر امارات میں ہوٹلوں اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آپ کو کیا خدشہ ہے کہ صورتحال کتنی خراب ہو سکتی ہے، اور آپ کے خیال میں اہداف کا دائرہ کیا ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
ایران جس طرح بھی آگے بڑھنا چاہے، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ ہم مزید کشیدگی نہیں چاہتے اور پُرسکون اور متوازن ردعمل کی اپیل کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، 137 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 200 سے زیادہ ڈرون ہمارے دفاعی نظام نے ناکام بنائے ہیں۔ ہم مسلسل کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہمیں نہ صرف حمایت اور تعاون کی یقین دہانیاں مل رہی ہیں بلکہ اس وسیع علاقائی کشیدگی کی سخت مذمت بھی کی جا رہی ہے، کیونکہ اس میں خلیجی ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔

بیکی اینڈرسن:
آپ نے کشیدگی کم کرنے کی بات کی، لیکن سرکاری بیانات میں حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جواب دینے کا حق محفوظ ہے۔ یہ جواب کیسا ہو سکتا ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
یہ صورتحال بہت متحرک اور بدلتی ہوئی ہے۔ لیکن ہم اپنے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنے دفاع کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بات اس حد تک نہ پہنچے، لیکن ہم بلاجواز اور غیر قانونی حملوں کو برداشت کرتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

بیکی اینڈرسن:
کیا متحدہ عرب امارات اپنا مؤقف بدل کر امریکہ یا اسرائیل کی کارروائیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ہماری سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ ہم ہمیشہ مکالمے کے حامی رہے ہیں کیونکہ ہمارا خطہ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تاہم اگر حالات اس نہج پر پہنچتے ہیں تو پھر فیصلے بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔ اس وقت گیند ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

بیکی اینڈرسن:
کیا سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد سفارتکاری کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
سفارتکاری کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ ہم کشیدگی کم کرنے اور خطے کے لیے بہتر سکیورٹی انتظامات تلاش کرنے کے لیے رابطے جاری رکھیں گے۔ ایران ہمارا جغرافیائی ہمسایہ ہے اور رہے گا، اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ماحولیاتی اور علاقائی نظام کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دو طرفہ کوشش ضروری ہوتی ہے، اور اس وقت ہم خلیج، اردن اور عراق سمیت مختلف ممالک پر حملوں کی صورت میں شدید کشیدگی دیکھ رہے ہیں۔

بیکی اینڈرسن:
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ اس وقت ایران میں کون اقتدار میں ہے۔ ایران کی موجودہ طاقت کے ڈھانچے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

محترمہ ریم الہاشمی:
ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ ایران کے عوام خود فیصلہ کریں گے کہ ان کی حکمرانی کیسی ہو۔ متحدہ عرب امارات دوسرے ممالک کے داخلی نظام میں مداخلت نہیں کرتا۔ ہم ایک ایسے دوست ہمسایہ کی خواہش رکھتے ہیں جو ہمارے ساتھ پُرامن طور پر رہنا چاہے۔

بیکی اینڈرسن:
آخر میں، امارات میں رہنے والوں کے لیے آپ کا پیغام؟

محترمہ ریم الہاشمی:
میرا پیغام یہی ہے کہ آپ محفوظ ہیں۔ ہماری قیادت آپ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ میں اپنی دفاعی افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول ڈیفنس ٹیموں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ صورتحال میں شور اور کچھ مقامات پر ملبہ ضرور گرا ہے، لیکن ہم دیگر شدید جنگ زدہ علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔ ہمارا انفراسٹرکچر مضبوط ہے اور ہماری قیادت اماراتی اور غیر اماراتی، سب کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔

بیکی اینڈرسن:
آپ کا شکریہ، آپ کا وقت ہمارے لیے قیمتی ہے۔ ریم بنت ابراہیم الہا

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔