اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں مانسہرہ کی 10 ایکٹر اراضی سے متعلق جائیداد کے تنازعہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جائیداد تیسرے فریق کو منتقل نہ ہوئی ہو تو دعویٰ چاہے کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، قابلِ سماعت ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار کے دلائل
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ جائیداد کا تنازعہ 1943 میں طے ہوچکا تھا، تاہم دوسری نسل نے 2015 میں اس معاملے کو دوبارہ چیلنج کر دیا۔ وکیل کے مطابق اتنے طویل عرصے بعد دعویٰ قابلِ سماعت نہیں ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس کے اہم ریمارکس
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض ججز کی رائے یہ رہی ہے کہ اگر دعویٰ بہت پرانا ہو تو وہ قابلِ سماعت نہیں رہتا۔ تاہم کراچی سے تعلق رکھنے والے معزز ججز کی رائے ہے کہ اگر جائیداد تیسرے فریق تک منتقل نہ ہوئی ہو تو ایسا دعویٰ قابلِ سماعت ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس اہم قانونی نکتے پر ہمیشہ کے لیے وضاحت اور حل کے لیے ایک لارجر بنچ تشکیل دیا جائے گا تاکہ یکساں اصول طے کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں مختلف حقائق سے متعلق سوالات موجود ہیں، اس لیے مناسب ہوگا کہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ٹرائل کورٹ ہی کیس کو طے کرے۔
عدالت کا حکم
عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ دونوں فریقین کو سن کر چھ ماہ کے اندر اندر کیس کا فیصلہ کرے۔
