اسلام آباد (آئی پی ایس ) ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے عوامی اجتماعات، احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔اتوار کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، دفعہ 144 کے تحت تمام قسم کے اجتماعات کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع یا اکٹھ کا حصہ نہ بنیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق کسی بھی احتجاج، مظاہرے یا اجتماع کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے باعث اٹھایا گیا ہے، نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر میں چار یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع، جلسے، جلوس اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی جب کہ عوامی مقامات پر بغیر اجازت کسی بھی قسم کا اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اجتماعات دہشت گردی کا ہدف بن سکتے ہیں جب کہ اجتماع میں شریک علمائے کرام کو بھی نشانہ بنانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امن عامہ میں ممکنہ خلل کے پیش نظر پیشگی اقدامات کئے گئے ہیں۔دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، لائسنس یافتہ اور بغیر لائسنس ہر قسم کا اسلحہ اس حکم کے تحت شامل ہوگا تاہم شادی بیاہ، جنازوں اور تدفین سے متعلق اجتماعات، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس اور عدالتوں کو پابندی سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، کراچی میں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے احاطے میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی، اس دوران فائرنگ سے 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔
