Saturday, February 28, 2026
ہومبریکنگ نیوزبنگلہ دیش: عوامی لیگ بتدریج سیاسی واپسی کے اشارے دینے لگی، مقامی دفاتر دوبارہ فعال

بنگلہ دیش: عوامی لیگ بتدریج سیاسی واپسی کے اشارے دینے لگی، مقامی دفاتر دوبارہ فعال

ڈھاکہ(آئی پی ایس )بنگلہ دیش کی سابق حکمران جماعت، عوامی لیگ، جو باضابطہ طور پر پابندی کا شکار ہے، نے مقامی دفاتر دوبارہ کھول کر اور گرفتار رہنماں کے مقدمات کی پیش رفت پر نظر رکھ کر محتاط انداز میں سیاسی واپسی کے اشارے دینا شروع کر دیے ہیں۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق حالیہ پارلیمانی انتخابات کے 2 ہفتے بعد ملک کے مختلف اضلاع میں ایک درجن سے زائد عوامی لیگ کے دفاتر کے تالے کھولے گئے۔

کچھ علاقوں میں حمایتی دفاتر کے باہر جمع ہو کر نعرے لگاتے رہے، تاہم باضابطہ طور پر دفاتر دوبارہ فعال نہیں کیے گئے۔پارٹی کے سینیئر رہنماں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نئی حکومت کے ردعمل کو جانچنے اور قانونی و سیاسی ماحول کے آہستہ آہستہ کھلنے کا اندازہ لگانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ عوامی لیگ کی سرگرمیاں عبوری حکومت نے 10 مئی 2025 کو ممنوع قرار دی تھیں، جب پارٹی کی حکومت 5 اگست 2024 کو عوامی بغاوت کے بعد ختم ہوئی تھی۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور کئی سینئر رہنماں نے بعد ازاں بھارت میں پناہ لی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق حسینہ نے بھارت سے ہدایات جاری کی ہیں کہ ضلع اور میٹرو سطح پر محدود تنظیمی سرگرمیاں آہستہ آہستہ دوبارہ شروع کی جائیں۔ درمیانی اور نچلی سطح کے رہنما دفاتر دوبارہ کھولنے کی قیادت کر رہے ہیں۔ایک اور اہم عنصر گرفتار رہنماں کی رہائی ہے۔ کئی نچلی سطح کے رہنما پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں، لیکن سینئر رہنما اور سابق قانون ساز رہائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ ضمانتیں پارٹی میں حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہیں۔نئی منتخب حکومت، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی یعنی بی این پی کی قیادت میں، عوامی لیگ پر پابندی برقرار رکھنے کا دعوی کر رہی ہے۔

سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے کہا کہ قانونی طور پر پارٹی کی سرگرمیاں اب بھی ممنوع ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ محدود علامتی موجودگی کے ذریعے زمین پر اپنے ووٹر بیس کو برقرار رکھنے اور گرفتار رہنماں کے حوالے سے قانونی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ابتدائی دفاتر کی دوبارہ افتتاحی تقریبات میں شیخ مجیب الرحمن کے پورٹریٹ اور قومی پرچم بھی دکھائے گئے، تاہم ڈھاکا کے بڑے دفاتر اب بھی خراب اور ترک شدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقی طور پر پارٹی کی مکمل تنظیمی واپسی کے لیے اندرون ملک قیادت کی بحالی ضروری ہوگی، کیونکہ زیادہ تر سینئر رہنما بیرون ملک موجود ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔