Friday, February 27, 2026
ہومکالم وبلاگزایک پردیسی کی زندگی کی ان کہی داستان

ایک پردیسی کی زندگی کی ان کہی داستان

پردیس کی زندگی صرف کمائی کا نام نہیں، یہ قربانی، تنہائی اور ان کہی جدائیوں کی داستان بھی ہے — ہر پردیسی کے دل میں چھپے ہوئے آنسو اور ٹوٹے خواب کی کہانی

تحریر خالد نواز چیمہ صدر اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن سعودی عرب


پردیس — خواب، قربانیاں اور خاموش آنسو
ایک پردیسی کی زندگی کی ان کہی داستان
ہم سب جب پردیس آتے ہیں تو آنکھوں میں بے شمار خواب سجاتے ہیں۔
ہر پردیسی اپنے دل میں امیدوں کا ایک جہاں لے کر گھر سے نکلتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ چند سال کی محنت سے زندگی بدل جائے گی،
اپنے گاؤں میں ایک پکا گھر ہوگا،
بچوں کا مستقبل روشن ہوگا،
اور ماں باپ کے چہروں پر خوشی لوٹ آئے گی۔
پردیس آنے والا ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ وہ صرف پیسے کمانے آیا ہے،
لیکن وقت کے ساتھ اسے احساس ہوتا ہے کہ پردیس صرف نوٹ کمانے کا نام نہیں،
یہ قربانیاں دینے کا نام ہے،
یہ تنہائی سہنے کا نام ہے،
یہ اپنے جذبات چھپانے کا نام ہے،
اور سب سے بڑھ کر یہ اپنوں سے دور رہ کر جینے کا نام ہے۔
پردیس کی زندگی باہر سے جتنی آسان اور خوشحال نظر آتی ہے،
حقیقت میں وہ اتنی ہی مشکل اور کٹھن ہوتی ہے۔
یہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک درد چھپا ہوتا ہے،
ہر خاموشی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے،
اور ہر پردیسی کے دل میں ایک ایسا خلا ہوتا ہے
جو ہزاروں لوگوں کے درمیان رہ کر بھی پُر نہیں ہوتا۔
پردیس میں رہنے والا انسان اکثر اپنے دکھ اپنے اندر ہی دفن کر دیتا ہے۔
وہ اپنے گھر والوں کو کبھی اپنی مشکلات نہیں بتاتا،
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی پریشانی سن کر
اس کے اپنے بھی پریشان ہو جائیں گے۔
اسی لیے وہ ہر حال میں خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے،
چاہے اندر سے وہ کتنا ہی ٹوٹ کیوں نہ رہا ہو۔
گزشتہ دنوں ایک پاکستانی بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا۔
اس کی آواز بھری ہوئی تھی، الفاظ ٹوٹ رہے تھے،
اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ
اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
“بھائی… میرا والد دنیا سے چلا گیا ہے…
اور میں یہاں پردیس میں ہوں…
نہ چھٹی مل سکی، نہ کاغذات مکمل تھے، نہ ٹکٹ کا انتظام ہو سکا…
میں اپنے باپ کا آخری چہرہ بھی نہیں دیکھ سکا…”
یہ الفاظ صرف الفاظ نہیں تھے،
یہ ایک بیٹے کا ٹوٹا ہوا دل تھا۔
ایک ایسا بیٹا جو اپنے والد کے لیے کماتا رہا،
جس نے اپنی جوانی پردیس میں گزار دی،
جس نے اپنی خوشیاں قربان کر دیں،
مگر جب وقت آیا تو وہ اپنے باپ کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا۔
سوچنے کی بات ہے کہ اس لمحے اس پردیسی پر کیا گزری ہوگی۔
جس باپ کی دعاؤں کے سہارے وہ پردیس میں کھڑا تھا،
جس کی آواز سن کر اسے سکون ملتا تھا،
جس کے لیے وہ دن رات محنت کرتا تھا،
آج وہی باپ مٹی کے سپرد ہو گیا
اور بیٹا ہزاروں میل دور صرف خبر سن کر رہ گیا۔
پردیس کی سب سے بڑی تکلیف یہی ہے
کہ یہاں انسان زندہ تو رہتا ہے
لیکن اپنے پیاروں کے اہم لمحوں میں شریک نہیں ہو پاتا۔
نہ خوشی میں…
نہ غم میں…
کسی کے گھر بچہ پیدا ہو جائے تو پردیسی صرف تصویر دیکھتا ہے،
کسی کی شادی ہو جائے تو پردیسی ویڈیو پر مبارکباد دیتا ہے،
اور اگر کسی عزیز کا انتقال ہو جائے
تو پردیسی صرف فون پر تعزیت کر کے رہ جاتا ہے۔
پردیس میں رزقِ حلال کمانا آسان نہیں ہوتا۔
یہ واقعی ایک خاموش جہاد ہے۔
یہاں انسان اپنی نیند قربان کرتا ہے،
اپنی خواہشیں قربان کرتا ہے،
اپنی جوانی قربان کرتا ہے،
صرف اس امید پر کہ اس کے اپنے خوش رہیں گے۔
پردیسی ہنستا کم ہے اور برداشت زیادہ کرتا ہے۔
وہ مسکراتا کم ہے اور روتا زیادہ ہے،
مگر اپنے آنسو کسی کو دکھاتا نہیں۔
کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ٹوٹ گیا
تو اس کے ساتھ جڑے کئی خواب بھی ٹوٹ جائیں گے۔
پردیس میں رہنے والا ہر شخص بظاہر مضبوط نظر آتا ہے،
مگر حقیقت میں وہ یادوں، دعاؤں اور امیدوں کے سہارے زندہ ہوتا ہے۔
اسے اپنے والدین کی آواز،
اپنے گھر کی دیواریں،
اپنی گلیاں،
اور اپنے لوگ ہر وقت یاد آتے ہیں۔
پردیسی کی سب سے بڑی دولت اس کی محنت نہیں،
بلکہ اس کے والدین کی دعائیں ہوتی ہیں۔
اور سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے
کہ کہیں وہ ان دعاؤں سے محروم نہ ہو جائے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد موجود پردیسی بھائیوں کا خیال رکھیں،
ان کے دکھ درد کو سمجھیں،
اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں،
کیونکہ پردیس کی زندگی بظاہر مضبوط مگر حقیقت میں بہت نازک ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر پردیسی کی محنت کو قبول فرمائے،
ہر پردیسی کو اپنے والدین کی دعاؤں کا سایہ نصیب فرمائے،
اور اسے وہ دن ضرور دکھائے
جب وہ اپنے پیاروں کے ساتھ سکون سے بیٹھ سکے۔
یا اللہ ہر پردیسی کی حفاظت فرما،
اس کے رزق میں برکت عطا فرما،
اور اسے اپنوں کی محبت سے کبھی محروم نہ کرنا۔
آمین۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔