لاہور:(آئی پیا یس) سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے، افغانستان ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتا، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی اسے ماننے سے انکار کر دے اور واخان کی پٹی کو آزادی دلائے تاکہ افغانستان کے عوام کو امن اور خوشحالی مل سکے۔ اپنے بیان میں افغانستان کی طرف سے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے افغان حکومت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کا پاکستان پر بلاجواز حملہ نہ صرف احسان فراموشی ہے بلکہ غیر اسلامی اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ اقدام کرکے افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرپرستی کا اعتراف کر لیا ہے۔
پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرکے افغان حکومت نے دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس پر معاہدے کے ضامنوں کو افغان حکومت سے جواب دہی کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پہلے ہی افغانستان حکومت پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کر چکی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے جہاں سے خطے اور دنیا کے ممالک میں دہشت گردی کے بڑا واقعہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے جس کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اس امریکی اسلحہ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔محمد علی درانی نے پاکستان کے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائیوں پر پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری افواج نے ملکی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور پروفیشنل فوج کا کردار ادا کیا ہے۔
سینئیر سیاستدان نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کے دوران افغان حکومت کا پاکستان پر حملہ واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل، بھارت اور افغان حکومت کا ٹرائیکا ایک ہی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ملکی سلامتی کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں نیشنل یونٹی گورنمنٹ یا وار کیبنٹ تشکیل دی جائے تاکہ مکمل اتحاد اور قومی سطح پر ایک سوچ کے ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے ایجنڈے پر متحد ہوں۔
