تحریر۔۔ بیک زود علیمجانوف
ازبکستان کی آزادی کے ابتدائی دنوں میں مجھے یہ جان کر بے حد خوشی اور مسرت ہوئی کہ پاکستان کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں ہمارے پاکستانی بھائیوں نے اس تاریخی موقع کا جوش و خروش سے خیرمقدم کیا۔ ایک دور دراز ملک کے عوام کی جانب سے ہماری آزادی کا اس قدر پرتپاک استقبال نہایت دل خوش کن اور کسی حد تک حیران کن بھی تھا۔بعد ازاں پاکستان کے دورے کے دوران مجھے اسی خیرسگالی کے جذبات کا دوبارہ مشاہدہ ہوا۔ جغرافیائی فاصلے کے باوجود میں نے دونوں ممالک کے درمیان گہری روحانی قربت محسوس کی ایک ایسا احساس کہ ہمارے پاکستانی دوست ہماری خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور مشکلات کے وقت ہمارے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ میں نے یہ سمجھا کہ یہ تعلق صدیوں پر محیط تاریخی روابط کا نتیجہ ہے۔ موجودہ ازبکستان کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاح اور تاجر برصغیر کی جانب تجارت اور زیارت کے لیے سفر کرتے رہے، جس سے دیرپا تعلقات کی بنیاد پڑی۔ شاہراہِ ریشم کی تاریخی وراثت اور صوفیانہ روایات کے اثرات سے مضبوط ہونے والے ثقافتی اور روحانی روابط نے ہماری اقوام کے درمیان گہری اور پائیدار دوستی کو فروغ دیا۔ہماری قوموں کو قریب لانے میں ظہیرالدین محمد بابر کی مشترکہ وراثت نے خصوصی کردار ادا کیا ہے وہ ایک عظیم تاریخی شخصیت تھے جن کی میراث ازبکستان اور پاکستان دونوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس مشترکہ ورثے نے ہماری روایات، زبانوں اور ثقافتی نقط نظر میں مماثلت پیدا کی۔ میں نے اس قربت کو نہ صرف سرکاری ملاقاتوں میں بلکہ عام لوگوں سے گفتگو کے دوران بھی محسوس کیا، جس نے باہمی ہم آہنگی کی گہرائی کو ہمیشہ اجاگر کیا۔برسوں کے دوران یہ تعلقات ثقافتی و روحانی ہم آہنگی اور مشترکہ اقدار کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے، جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کو فروغ ملا۔دو طرفہ روابط بتدریج وسعت اختیار کرتے ہوئے 2021 میں اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچ گئے جو تعلقات کی گہرائی، تعاون کے دائرہ کار میں وسعت اور نئے شعبوں کی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ میں بنیادی کردار دونوں رہنماوں ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے مضبوط سیاسی عزم اور باہمی اعتماد پر مبنی تعمیری مکالمے نے ادا کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو مزید گہرا کرنے اور دیرینہ روابط کو مضبوط بنانے کی مشترکہ خواہش کا مظہر ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران ازبکستان اور پاکستان نے سیاسی مکالمے کے فروغ، تجارت اور اقتصادی تعاون کے پھیلا، دفاع و سلامتی کے شعبوں میں اشتراک، ثقافتی و انسانی تبادلوں کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔آج تاشقند اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات ہمسائیگی، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے مفادات کے احترام کی بنیاد پر ترقی کر رہے ہیں۔ ادارہ جاتی روابط مضبوط ہوئے ہیں، سیاسی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک کی سرکاری و کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون مزید متحرک ہوا ہے۔علاقائی ماحول کے سازگار ہونے کے ساتھ صدر شوکت مرزایوف نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط اور باہمی ربط کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہے، جس میں افغانستان کے راستے ازبکستان کو پاکستان کی سمندری بندرگاہوں سے ملانے کا ایک بڑا منصوبہ بھی شامل ہے۔اعلی سطحی مکالمے اور حکومتی و ریاستی اداروں کے درمیان تعاون نے باہمی مفاد پر مبنی روابط کو سہولت فراہم کی ہے اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔پاکستان میں ازبک زبان، ادب اور تاریخ کے مطالعے سے متعلق اقدامات پر بھی بڑھتی ہوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں ازبک زبان کی تدریس ہمارے ملک اور اس کی لسانی وراثت کے لیے دلچسپی اور احترام کی واضح مثال ہے۔ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات مشترکہ مفادات اور شراکت داری کی بنیاد پر ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں یہ تعاون جغرافیائی اور سیاسی فاصلے کم کرنے اور بین العلاقائی روابط کو فروغ دینے کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ازبک۔پاکستانی تعلقات سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ نہ صرف دوستانہ روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جو وسیع تر خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
