بیجنگ :حال ہی میں منائے جانے والے گھوڑے سے منسوب سال کے جشن بہار نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے ۔ تعطیلات کے دوران پورے ملک میں مختلف علاقوں کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت کا مجموعی حجم 2.8 ارب سے زائد رہا، جو پچھلے سال کی اسی مدت کےمقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ ہے۔ ملک بھر میں اہم خوردہ اور ریستورانٹس کی کمپنیوں کی یومیہ فروخت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.7 فیصد بڑھی ہے ، جبکہ سرحدی اداروں نے 1.7796 کروڑ چینی اور غیر ملکی افراد کے داخلے اور خروج کو ریکارڈ کیا ہے۔
اس کے علاوہ فلموں کی باکس آفس آمدنی نے 5.7 ارب یوان سے تجاوز کیا ۔ ان تمام متحرک اعداد و شمار نے ” پندرہویں پانچ سالہ منصوبے ” کے آغاز کے سال میں چینی معیشت کے لیے ایک اچھا آغاز فراہم کیا ہے ۔نئے چینی سال کی ایک نمایاں خصوصیت مصنوعات کی زبردست تنوع اور دو طرفہ تبادلہ ہے۔ چین کی کھلی پالیسیوں کی بدولت، چین کی مقامی اشیاء درجنوں بیرونی ممالک اور علاقوں میں فروخت کی جا رہی ہیں ، جبکہ ڈرون، روبوٹ، اے آئی گلاسز جیسی ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات’ غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔
دوسری طرف کینیڈا ، امریکہ اور یورپ کی مقامی کھانے پینے کی چیزیں بھی چینی عوام کی میز تک پہنچی ہیں ۔چین اور دیگر ممالک کے درمیان افراد کا تبادلہ اس عالمی ثقافتی تقریب کا ایک اور منفرد پہلو بن گیا ہے۔ ان تعطیلات کے دوران، چینی سیاح دنیا کے تقریباً ایک ہزار شہروں میں گئے ، جبکہ روس اور ترکیہ جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح ‘ویزا فری ” سہولت سے فائدہ اٹھا کر چین کے جشن بہار کو منانے کے لیے چین آئے۔ امریکی رسالہ ‘ اراؤنڈ دی ورلڈ ‘ سمیت دیگر غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریکارڈ تعداد میں بین الاقوامی سیاح اسپرنگ فیسٹیول میں ہونے والی افرادی نقل و حرکت میں شامل ہوئے، جس سے عالمی سطح پر سیاحت کی صنعت کو مضبوط طاقت ملی ہے ۔ خوشی اور جوش و خروش کے حامل گھوڑے سے منسوب اس سال کے چینی جشن بہار نے دنیا کو چینی معیشت کی دھڑکن سنائی ہے ۔ چینی نئے سال کی کنزیومر مارکیٹ میں جوش و خروش اور رونق نے نئے سال کے لیے چینی معیشت سمیت عالمی معیشت کو بھی اعتماد اور قوت فراہم کی ہے ۔
