راولپنڈی (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان رہائی فورس کے معاملے پر پارٹی میں مشاورت جاری ہے اور کوئی بھی اقدام غیر قانونی یا غیر آئینی نہیں ہوگا۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جماعت سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے پر نہیں۔ فورس کے خدوخال پر پارٹی میں غور کیا جائے گا اور ہر قدم آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اگر وہ پارٹی چیئرمین نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی کوششوں پر بہت کچھ کہتا۔بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان کے دوسرے طبی معائنے سے متعلق انہیں پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے صرف تاریخ بتائی تھی، مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ رات کو اچانک معائنہ کیا جائے گا۔ بعد میں اطلاع ملی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا ہے اور انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیاکہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔انہوں نے کہاکہ وہ ہمیشہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آواز بلند کریں لیکن زبان محتاط رکھیں، کیونکہ تمام فریقین کو ایک دوسرے کا لحاظ کرنا چاہیے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر علاج کے لیے کسی ایک شخص کو بلایا جائے تو دوسرے کو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ملک پہلے ہی دہشتگردی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے مزید بحران پیدا کرنے کے بجائے بہتری کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
ان کے بقول جماعت ہر آئینی فورم پارلیمنٹ، عدالتیں یا عوامی سطح پر آواز اٹھائے گی، مگر کوئی غیر جمہوری کام نہیں کرے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیاکہ اگر وہ پارٹی چیئرمین نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششوں پر بہت کچھ کہتے، لیکن اب ترجیح حالات کو بہتر بنانا ہے اور جو کچھ ان کے بس میں ہے وہ ایمانداری سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوشش کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے اور بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی بھی کوشش کی گئی، کچھ غلطیاں ہوسکتی ہیں جو ہم سے یا ان سے ہوئی ہوں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سیاست سے دور نہیں ہو سکتے، وہ ملکی سیاست کے اہم کردار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علیمہ خان نے انہیں کبھی عہدے سے ہٹانے یا خود پارٹی چیئرپرسن بننے کی بات نہیں کی، یہ عہدہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی امانت ہے اور جب وہ کہیں گے چھوڑ دیں گے۔
عمران خان رہائی فورس کے خدوخال پر غور ہوگا، پارٹی کسی ملیشیا پر یقین نہیں رکھتی، بیرسٹر گوہر
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
