اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو، کوئی بات ماننے کو تیار نہ ہو تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟ سیاست دانوں نے تو میثاق جمہوریت کیا تھا لیکن ان کے لیڈر نے چھ سات سال زور لگا کر کہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان کی صحت کے معاملے پر رانا ثنا نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق ڈاکٹر ندیم قریشی کو ان کے مطالبے پر شامل کیا گیا ہے، ڈاکٹرز نے معائنہ کیا، گوہر خان کو شرکت کی درخواست کی گئی مگر انہوں نے انکار کر دیا، سپریم کورٹ میں مزید ڈیمانڈ نہیں کی گئی یا وہ تسلیم نہیں کی گئی، آپ کو ایک معائنہ کروایا اور ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کو درست قرار دیا اس بنیاد پر کہا جاتا ہے اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے ہمیشہ کوشش کی ہے اس وقت بھی کوشش کی جب آپ اقتدار میں تھے، ہم اس ملک کی بہتری کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کا حصہ بنیں کمیٹیوں میں شرکت کریں آپ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہمارا ساتھ دیں مگر آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں، آپ بھی اس کمیٹی کا حصہ تھے جس میں سب سینئر موجود تھے آپ نے دوسری کمیٹی میں کیا جواب دیا تھا کہ ہمیں حکم آگیا ہے، کیسز کے معاملے پر آپ کہتے ہیں کہ ٹھیک نہیں مگر ہمارا خیال مختلف ہے آپ کو بھی مقدمات پر عدالتوں سے ریلیف لینا ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں، ہم معاملات کو جمہوری انداز سے بڑھانے کے لیے تیار ہیں، جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے ڈیڈلاک سے نہیں۔
ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں، رانا ثنا اللہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
