Monday, February 23, 2026
ہومبریکنگ نیوزاسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ شہری کیس میں سیکرٹری دفاع و داخلہ طلب، عملدرآمد نہ ہوا تو شوکاز نوٹس کی وارننگ

اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ شہری کیس میں سیکرٹری دفاع و داخلہ طلب، عملدرآمد نہ ہوا تو شوکاز نوٹس کی وارننگ

اسلام آباد:(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کے کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور خبردار کیا کہ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔

سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ درخواست گزار زینب زعیم نے اپنے لاپتہ خاوند کے کیس میں سابقہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی۔

دورانِ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کے فیصلے پر عمل نہ ہوا تو دونوں سیکرٹریز کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ متعلقہ افسران کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

جسٹس کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ سے پوچھا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی یا نہیں؟ عدالت کا کہنا تھا کہ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کا ہو سکتا ہے جو بریفنگ دے سکے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ نمائندہ آ کر عدالت کو بریفنگ دے سکتا ہے، تاہم فیلڈ آفیسرز کی دستیابی سے متعلق لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ شخص 2013 میں پہلی بار لاپتہ ہوا تھا اور اب 2026 ہے۔ “ایک آدمی کی اِن کیمرہ بریفنگ کو سمجھنا چاہ رہا ہوں، یہ عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہتی ہے۔ اس عدالت اور ڈویژن بنچ دونوں قرار دے چکے ہیں کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔”

جسٹس کیانی نے کہا کہ ایک معذور شخص کے بارے میں ریاست بتانے کو تیار نہیں۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور ٹرائل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس کی فیملی کو پچاس لاکھ روپے دے چکی ہے، تاہم اگر الزامات ہیں تو باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔

سماعت کے دوران وزارت دفاع کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ مذکورہ شخص کسی ایجنسی کی تحویل میں ہے۔ مزید کہا گیا کہ دی گئی رقم معاوضہ نہیں بلکہ پانچ سال سے زائد لاپتہ رہنے کے بعد وزیر اعظم کی منظوری سے بطور معاونت فراہم کی گئی۔ وزارت دفاع کے نمائندے نے اِن کیمرہ بریفنگ کو کیس کے دائرہ کار سے باہر قرار دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا تو کیوں نہ وزیر اعظم کو طلب کیا جائے کہ فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر فیصلے سے اختلاف ہے تو وفاقی آئینی عدالت سے اسے معطل کرایا جائے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہاں آپ کی بات نہیں مانی گئی۔

عدالت نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر کیس میں معاونت کی جائے۔ کیس کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔