چین کی نو روزہ اسپرنگ فیسٹیول (چینی نئے سال) کی تعطیلات، جو 15 فروری کو شروع ہوئیں، آدھے سے زیادہ گزر جانے کے باوجود سفر کا جوش کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
ملک بھر میں سیاح اُن مقامات کا رخ کر رہے ہیں جہاں جگمگاتے قمقمے، روایتی میلے اور رنگا رنگ لوک پریڈز تہوار کی خوشیاں بکھیر رہی ہیں۔ لوگ روایتی ثقافت کا بھرپور اور عملی تجربہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
ٹرانسپورٹ حکام کے اندازے کے مطابق تعطیلات کے دوران یومیہ بین العلاقائی سفر کی تعداد ریکارڈ 299 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ اس دوران ٹریول پلیٹ فارمز کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سرگرمیوں کی تلاش میں سال بہ سال دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
روایت اور جدت کا امتزاج
تعطیلات کے دوران صوبہ گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے تاریخ کے شوقین لن یو، جنہیں سونگ خاندان (960-1279) میں خاص دلچسپی ہے، مشرقی چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر ہانگژو میں واقع چھنگ حے فانگ تاریخی و ثقافتی گلی کا دورہ کرنے پہنچے۔
800 سال پرانا یہ علاقہ، جو کبھی ایک مصروف تجارتی مرکز تھا، ان دنوں ثقافتی سرگرمیوں کی میزبانی کر رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی سے مزین مظاہرے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ روبوٹک کتے روایتی شیر رقص کی دھن پر حرکت کرتے ہیں جبکہ ڈرون رات کے آسمان پر ققنس (فینکس) کے نقش بناتے ہیں، جو ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔
لن یو نے کہا، “یہاں آپ تاریخ کو زندہ ہوتے دیکھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی تہوار کی رونق سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ وہ خصوصی طور پر ان تقریبات کی وجہ سے یہاں آئے۔
جدید ٹیکنالوجی کے مظاہروں کے علاوہ، اس سال اسپرنگ فیسٹیول کے دوران مختلف عملی اور باہمی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں زائرین روایات میں براہ راست حصہ لے سکتے ہیں اور چینی ثقافت کی گہرائی کو محسوس کر سکتے ہیں۔
شی آن شہر کی فصیل کے سیاحتی مقام پر ایک خصوصی قمقموں کی نمائش قدیم دیواروں کو روشن کیے ہوئے ہے، جس میں 39 گھوڑے کی علامت والے مجسمے شامل ہیں، جن میں پروں والے ڈیزائن بھی شامل ہیں جو تاریخی نوادرات سے متاثر ہیں۔ اسی مقام پر قومی سطح کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحت ڈوریوں سے چلنے والے پتلی تماشے کی نمائش بھی جاری ہے۔
شہر کی فصیل کے انتظامی ادارے کے اہلکار ژو یوان نے کہا، “یہ شو اسٹیج اور ناظرین کے درمیان روایتی حد کو ختم کرتا ہے۔ قدیم ہنر کو تاریخی دیواروں پر دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔”
اسپرنگ فیسٹیول سے قبل چین نے ایک ماہ طویل ثقافتی اور سیاحتی مہم کا آغاز کیا تاکہ کھپت میں اضافہ کیا جا سکے۔ تقریباً 30 ہزار تقاریب منعقد کی گئیں جن میں روایتی نئے سال کی رسومات، پرفارمنسز، سرمائی کھیل اور خاندانی سیاحت کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ اس کے ساتھ 360 ملین یوان (تقریباً 51.6 ملین امریکی ڈالر) کے واؤچرز اور سبسڈیز بھی فراہم کی گئیں۔
شانشی صوبے کے شی یانگ کاؤنٹی میں اسپرنگ فیسٹیول کے خصوصی انٹرایکٹو شوز اور کھیلوں کے ذریعے سیاح لوک تھیم والی گلیوں کو خزانے کی تلاش کی طرح دریافت کرتے ہیں اور راستے میں خوشیاں اور دعائیں سمیٹتے ہیں۔ فوجیان صوبے کے شہر چھوانژو میں سیاح روایتی پھولوں والے سرپوش پہن کر صدیوں پرانی گلیوں میں گھومتے ہیں اور سرخ اینٹوں والے مکانات کی خمیدہ چھتوں کے نیچے تصاویر بنواتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تعطیلات کے پہلے دن 78 اہم تجارتی سڑکوں اور علاقوں میں پیدل آنے والوں کی تعداد میں سال بہ سال 23.2 فیصد اور فروخت میں 33.2 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹریول پلیٹ فارم فلیگی کے مطابق لوک سرگرمیوں کی تلاش میں 117 فیصد اضافہ ہوا جبکہ لوک رسوم اور غیر مادی ثقافتی ورثے پر مبنی سفر کی تلاش میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
چائنا ٹورازم اکیڈمی کے سربراہ دائی بن نے کہا، “اس سال کا اسپرنگ فیسٹیول ظاہر کرتا ہے کہ روایتی چینی ثقافت نئے کھپتی رجحانات کو تشکیل دے رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ نوجوان سیاحوں میں “چائنا-چک” طرز خاص طور پر مقبول ہو چکا ہے۔
عالمی رابطہ
“گھوڑے کے سال کی مبارکباد!” 15 فروری کو، جو توسیع شدہ تعطیلات کا پہلا دن تھا، بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اہلکاروں نے بین الاقوامی مسافروں کا استقبال روایتی “فو” حروف اور نئے سال کی نیک تمناؤں کے ساتھ کیا۔
اسپرنگ فیسٹیول کے دوران مزید غیر ملکی سیاح چین کی اہم ترین خاندانی تعطیل اور اس کی روایات کا تجربہ کرنے کے لیے سفر کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سفری میڈیا ادارے “ٹریول اینڈ ٹور ورلڈ” نے اپنے حالیہ مضمون میں 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے سفر کو “عالمی سیاحتی مظہر میں تبدیل ہوتا ہوا رجحان” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر “بی کمنگ چائنیز” اور “ویری چائنیز ٹائم” جیسے رجحانات کے ساتھ صارفین اپنے تجربات اور تاثرات بھی بھرپور انداز میں شیئر کر رہے ہیں۔
نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق تعطیلات کے دوران روزانہ سرحد پار مسافروں کی تعداد 2.05 ملین سے تجاوز کر جائے گی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.1 فیصد زیادہ ہے۔ آن لائن ٹریول پلیٹ فارم کونار کے اعداد و شمار کے مطابق غیر چینی پاسپورٹ رکھنے والوں کی جانب سے اندرون ملک پروازوں کی بکنگ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 100 سے زائد چینی شہروں تک پھیلی ہوئی ہے۔
شنگھائی میں بین الاقوامی سیاح خصوصی طور پر ترتیب دیے گئے اسپرنگ فیسٹیول سٹی واکس میں حصہ لے سکتے ہیں، جہاں وہ بہار کے اشعار (چون لیان) لکھنے کی خطاطی آزما سکتے ہیں، روایتی چینی لباس پہن سکتے ہیں اور مقامی طرز کے وونٹون بنانے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والی گریس شینکل نے کہا، “میرے دادا شنگھائی سے ہیں اور میں اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے پر بہت پُرجوش ہوں۔ میں خود ڈمپلنگ بنانے کے لیے بےتاب ہوں اور ان کی ویڈیوز انہیں دکھانے کا انتظار نہیں کر سکتی۔”
جمہوریہ کوریا اور تھائی لینڈ سے شاندونگ صوبے آنے والے سیاحتی گروپوں نے تعطیلات کے دوران مقامی رسومات میں بھرپور حصہ لیا۔ چینی نئے سال کی شام 70 سے زائد تھائی سیاحوں نے مستند انداز میں ہاٹ پاٹ، تہوار کے گیتوں، اسپرنگ فیسٹیول گالا اور ڈمپلنگز سے لطف اندوز ہو کر جشن منایا۔
ایک مقامی ٹریول ایجنسی کے ڈپٹی جنرل منیجر چن فنگ نے بتایا کہ اسپرنگ فیسٹیول گروپ ٹورز میں چھ روزہ پروگرام شامل تھا جس میں قدرتی مناظر کے ساتھ ثقافتی اور لوک تجربات کو یکجا کیا گیا۔ “فو” حروف لکھنا اور ثقافتی مظاہرے دیکھنا مقبول ترین سرگرمیوں میں شامل رہے۔
2024 کے آخر میں یونیسکو نے “اسپرنگ فیسٹیول، چینی عوام کی روایتی نئے سال کی تقریبات سے متعلق سماجی رسومات” کو انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا۔
ٹریول اینڈ ٹور ورلڈ کے ایک اور مضمون میں کہا گیا، “سیاح اب چین صرف اس کی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے نہیں آ رہے بلکہ دنیا کے قدیم ترین اور بااثر تہواروں میں سے ایک کو منانے کے لیے بھی آ رہے ہیں۔”
چین کی ویزا فری پالیسیوں اور سہولتوں نے غیر ملکی سیاحت میں اضافے کو فروغ دیا ہے۔ 17 فروری سے چین نے کینیڈا اور برطانیہ کے عام پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری پالیسی میں توسیع کی، جس کے بعد یکطرفہ ویزا فری رسائی سے مستفید ممالک کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔
چین نے تعطیلاتی اخراجات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں آسان داخلہ، بہتر ادائیگی کے نظام اور ڈیوٹی فری خریداری کی سہولت شامل ہیں۔
ایک برطانوی سیاح نے اپنے دورے کے اختتام پر کہا، “ویزا فری پالیسی کی بدولت میں نے ‘بی کمنگ چائنیز’ کا تجربہ کیا اور سب سے مستند چینی نیا سال منایا۔ میں خود کو بہت مطمئن محسوس کر رہا ہوں۔”
■
بشکریہ: سنہوا نیوز
