اسلام آباد (آئی پی ایس )مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف براہ راست نہ عمران خان کی صحت مانیٹر کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اسے سنجیدگی سے محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طبی فیصلے ورثا نہیں بلکہ ڈاکٹرز کرتے ہیں اور علاج سے متعلق تمام معاملات متعلقہ طبی ٹیم کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اندرونی طور پر اتفاق رائے قائم کر لے تو مذاکرات نہ صرف ممکن ہیں بلکہ نتیجہ خیز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اس وقت پی ٹی آئی شدید گروہ بندی کا شکار ہے جس کے باعث کسی واضح پیشرفت میں رکاوٹ درپیش ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو پارلیمان اور پارلیمانی کارروائی کا حصہ بنانا چاہتی ہے لیکن پی ٹی آئی کے ارکان قانون سازی پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج، نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی میں مصروف رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ترجیح قانون سازی نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بنانا ہوتی ہیں جو سوشل میڈیا ٹیموں اور عمران خان تک پہنچائی جا سکیں۔
