Friday, February 20, 2026
ہومسائنس و ٹیکنالوجیچین،اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی

چین،اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی

اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی ) کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے جاری کردہ ایک سروے کے مطابق 94 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا چین کی تکنیکی جدت طرازی کی کامیابیوں کو پیش کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے کہا کہ اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس کی کارکردگی ناقابلِ یقین تھی: “شروع میں مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ روبوٹس ہیں، کیونکہ ان کی رفتار اور شاندار کارکردگی، خاص طور پر ان کا باہمی ربط، واقعی متاثر کن تھا۔” اور سب سے اہم بات یہ کہ ایک بھی غلطی نہیں ہوئی! سروے میں 88.8 فیصد جواب دہندگان نے چینی روبوٹکس صنعت کی انقلابی پیش رفت پر حیرت کا اظہار کیا، جو میکانکی ڈھانچوں سے آگے بڑھ کر ایمبیڈڈ انٹیلیجنس تک پہنچ چکی ہے۔ 86.5 فیصد افراد کا خیال ہے کہ انسانی تخلیقی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت کے اشتراک نے ایک بالکل نیا جمالیاتی تجربہ فراہم کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس پروگرام کو اس سال کے گالا کی “سب سے بڑی جھلکیوں میں سے ایک” قرار دیا۔ نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ روبوٹس کی کارکردگی، جیسے مدہوش مکے بازی، تلوار بازی اور چھلانگیں لگانا، محض حرکات کی نقل نہیں تھی بلکہ اس میں روایتی چینی مارشل آرٹس کی “روح” کو میکانکی درستگی کے ساتھ یکجا کیا گیا تھا۔ سروے میں 90.4 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ “اسپرنگ فیسٹیول روبوٹس” چین کی تکنیکی جدت کی سطح کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ ملک کی ثقافتی کشش اور تکنیکی صلاحیت کا دوہرا مظاہرہ ہیں۔

سن 2025 تک چین میں صنعتی روبوٹس کی پیداوار 7 لاکھ 73 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہے اور ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ایمبیڈڈ انٹیلیجنس کو بھی مستقبل کی صنعتوں کی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کی سفارشات میں بتایا گیا ہے۔ کچھ صارفین نے کہا: “روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت چین کی ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے میں اہم قوتیں بن جائیں گی۔” اس رائے سے 87.9 فیصد جواب دہندگان نے اتفاق کیا، جو ایک نئی چینی تکنیکی جست کی توقع رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ 93.6 فیصد جواب دہندگان کا ماننا تھا کہ چین کی تکنیکی جدت نے عالمی سائنس و ٹیکنالوجی اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کی ترقی کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے اور عالمی تکنیکی جدت میں حصہ ڈالا ہے۔ 93.3 فیصد افراد نے توقع ظاہر کی کہ ان کے ممالک چین کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔