اسلام آ باد (سب نیوز)سفیر البرٹ پی خوریف نے بحریہ یونیورسٹی کے طلبہ سے روس۔پاکستان تعلقات پر ایک لیکچر دیا۔سفیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کے باوجود ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تعاون ہمیشہ تعمیری رہا ہے۔
اس کی مثال 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں سوویت یونین کی معاونت سے پاکستان میں مکمل کیے گئے صنعتی منصوبے ہیں، جن میں کراچی اسٹیل ملز اور گڈو تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر شامل ہے۔انہوں نے زور دیا کہ جدید روس۔پاکستان تعلقات سیاسی، اقتصادی اور انسانی روابط میں بڑھتی ہوئی فعالیت کی خصوصیت رکھتے ہیں۔سفیر خوریف نے طلبہ کو یوکرین اور اس کے گرد و نواح کی صورتِ حال سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے یوکرینی بحران کی بنیادی وجوہات اور یوریشیائی خطے کو غیر مستحکم کرنے میں مغربی ممالک کے منفی کردار پر توجہ مرکوز کی۔
سفیر نے سامعین کی توجہ یوکرین میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے روسی فیڈریشن کی اہم کوششوں کی جانب بھی مبذول کرائی۔تقریب کے موقع پر سفیر نے بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر، وائس ایڈمرل عابد حمید HI(M) سے بھی ملاقات کی۔ فریقین نے متعلقہ روسی جامعات کے ساتھ شراکت داری کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور تعلیمی تعاون کو جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
