Wednesday, February 18, 2026
ہومبریکنگ نیوزسانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات

سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات

کراچی: (آئی پی ایس) چیف فائر آفیسر نے سانحہ گل پلازہ پر بنے جوڈیشل کمیشن کے روبرو انکشاف کیا کہ اگر پلازہ کی بجلی بند نہ ہوتی اور اعلان ہوتا تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا جس میں ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا اس رات کیا ہوا کچھ بتائیں گے، جس پر ڈی جی ریسکیو نے بتایا ہمیں رات 10 بج کر 35 منٹ پر گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے پوچھا گل پلازہ میں آپ نے کیسے آگ بجھائی، جس پر واجد صبغت اللہ کا کہنا تھا ہم نے سیڑھی کے ذریعے آگ بجھانا شروع کی جس کی ویڈیو موجود ہے، اس کے بعد کے ایم سی کی فائربریگیڈگاڑیاں اوراسنارکل پہنچے۔

ڈی جی ریسکیو 1122 کا کہنا تھا کےالیکٹرک کو بھی بجلی منقطع کرنے کا کہا تھا، جس پر کمیشن نے پوچھا کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟ انہوں نے بتایا کہ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا جس وقت پہنچے گراؤنڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، دوسری اور تیسری منزل والوں کو بچانے کی کوشش شروع کی، گراؤنڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا، میز نائن فلور سے بھی داخلی راستہ نہیں تھا۔

عدالتی کمیشن نے استفسار کیا آپ کے پاس گرل کاٹنے کے آلات تھے، جس ڈی جی ریسکیو نے کہا ہمارے پاس آلات تھے، کھڑکیاں بند اور کچھ پر لوہے کی گرل تھیں۔

جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا متاثرین کے مطابق آگ نیچے تھی ونڈو گرل توڑی جاتی تو لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ جس پر ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے کہ آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے جبکہ دکان دار سامان نکال رہے تھے، لیکن اے سی ڈکٹ سے آگ میزنائن اور فرسٹ فلور پر پہنچی۔

ڈی جی ریسکیو کا کہنا تھا گل پلازہ کے اندر قدرتی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، دھواں اتنا تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ سے کچھ بھی نہیں نظر نہیں آرہا تھا، تنگ راستے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔

گل پلازہ میں فوم استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سے زائد تھا: ہمایوں خان
چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان نے کمیشن کو بتایا کہ ہمیں دس بج کر 26 منٹ پر اطلاع ملی، 15 فائر ٹینڈرز، 2 اسنارکل اور3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کو ریسکیو کیا، کھڑکیاں کاٹ کر5 یا 6 افراد کی لاشیں نکالیں، پہلی اوردوسری منزل کی سیڑھیاں بند تھیں جس پر پہلی اور دوسری منزل کی گرل بھی کاٹیں۔

چیف فائر افسر کے ایم سی نے بتایا کہ پلازہ کے اندر سنار کی دکان سےکروڑوں کا سونا بھی برآمد کیا، صبح عمارت میں داخل ہونے پر عمارت گرگئی، جس سے ایک فائر فائٹر شہید ہوا۔

ہمایوں خان کا کہنا تھا لائٹ بند نا ہوتی یا ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو اتنا نقصان نا ہوتا، جس پر کمیشن نے پوچھا آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔

جوڈیشل کمیشن نے استفسار کیا کیا آگ پر صرف پانی استعمال کیا یا کوئی کیمیکل؟ جس پر چیف فائر آفیسر نے کہا کیمیکل کی آگ یا آئل میں لگنے والی آگ پرفوم استعمال کیا جاتا ہے، گل پلازہ میں فوم استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

کمیشن کا کہنا تھا لواحقین نے بتایا پانی کی کمی کا سامنا ہوا، جس پر ہمایوں خان کا کہنا تھا ریسکیو 1122 اور نیوی کے فائر ٹینڈر فرنٹ سائیڈ پر کام کر رہے تھے۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا پانی ٹینکر سے آرہا تھا ایسی صورتحال میں ہائیڈرنٹ سے کتنی دیر میں پہنچتا ہوگا، فائر ہائیڈرنٹ نہیں ہیں؟

کے ایم سی کے چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ انگریزوں کے دور میں فائر ہائیڈرنٹ ہوتے تھے، ایم اے جناح روڈ پر فائر ہائیڈرنٹ ہوتے تھے، ہم پانی کے لیے واٹر کارپوریشن سے رابطہ کرتے ہیں۔

کمیشن نے استفسار کیا کیا اب ایک بھی فعال نہیں؟ جس پر چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ فائر ہائیڈرنٹ اب موجود ہی نہیں ہیں، لوگوں کے رش کی وجہ سے مشکلات ہوتی ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل نے پوچھا پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہوں گے؟ کیا فائر بریگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہے؟ فائر بریگیڈ کے لیے کیا مکینزم ہے؟

چیف فائر افسر کا کہنا تھا فائر اکیڈمی میں فائر فائٹرز اور وارڈنز کو تربیت دیتے ہیں، 30 سال پہلے فائر فائٹر کے لیے مڈل تعلیم چاہیے ہوتی تھی، چیف فائر افسر کے لیے میٹرک کی تعلیم چاہیئے ہوتی تھی۔

کمیشن نے پوچھا اب کیا تعلیم ہونی چاہیے؟ آپ کی تعلیم کیا ہے؟ جس پر چیف فائر افسر کا کہنا تھا بی اے کیا ہے۔

چیف فائر افسر کا کہنا تھا لوگوں نے پائپ اپنی دکانوں میں لےجانے کی کوشش کی، 15 سے 20 منٹ بعد سکیورٹی اہلکار پہنچے، صدر فائر اسٹیشن، بولٹن فائر اسٹیشن سے بھی ٹیمیں پہنچیں، جس پر کمیشن نے کہا مطلب 11 سے سوا 11 بجے پر باوزر کنیکٹ کرکے استعمال شروع کیا، ہمایوں خان نے بتایا کہ ساڑھے 11 بجے آگ بجھانے کا کام شروع ہوا جبکہ ساڑھے 12 بجے واٹر کارپوریشن کا ٹینکر پہنچا۔

کمیشن نے پوچھا موقع پر پہنچنے کے بعد کس طرح طے کیا جاتا ہے کونسی نوعیت کی آگ ہے یا کونسا میٹریل استعمال کرنا ہے؟ آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق کیا تحقیقات کی ہیں؟

عدالتی کمیشن کا کہنا تھا آگ خود نہیں لگتی یا تو لگائی جاتی ہے یا غفلت ہوتی ہے، دکانداروں کے بیانات کے مطابق آگ کی شدت زیادہ تھی، 10 منٹ میں آگ پھیلی، کھڑکیاں اینٹیں لگا کر بند تھیں، فائر بریگیڈ کہاں پانی مار رہا تھا؟

چیف فائر افسر کا کہنا تھا آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی روڈ پر بھی کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، فائر فائٹر اسکے باوجود آگ کا مقابلہ کرتے ہیں، راستے بار بار بند کر دیے جاتے تھے، اوپر جانے کے راستے بند تھے، دوسری منزل سے نیچے اترنے کے راستے بند تھے۔

کمیشن کا کہنا تھا اسنارکل کی مدد سے اوپر جاسکتے تھے، جس پر چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ آگ کی شدت ایسی تھی کہ گرل سرخ ہو رہی تھی۔ کمیشن نے استفسار کیا کیا درجہ حرارت آپ نے ریکارڈ کیا تھا؟ اس پر ہمایوں خان کا کہنا تھا اپنے تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سے زائد تھا۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟ جس پر چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا ہمیں علم نہیں ہے، دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھا جو جلدی آگ پکڑتا ہے، وینٹیلیشن بھی ایک وجہ ہے۔

کمیشن نے استفسار کیا آگ لگنے کے بعد فوری طور پر کیا کرنا چاہیے تھا، جس پر چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے، لائٹ بند نہ ہوتی اور اعلان ہوتا تو انسانی جانیں بچ سکتی تھیں، اگر اندر لوگ موجود ہیں تو لائٹ آف نہیں کی جاتی، بجلی بند کروانے کا کام فائر بریگیڈ طے کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔