Wednesday, February 18, 2026
ہومبریکنگ نیوزعمران خان نے مجھ سے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمی خان

عمران خان نے مجھ سے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمی خان

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے آخری ملاقات میں مجھے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور یہ لوگ ایسا کام کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر عظمی خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صبح کال آئی اور کہا کہ آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کے لیے بھیج دیں گے، ہم نے کہا کہ ہم ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، ہم کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کریں گے اور ہم نے کہا کہ ڈاکٹر برکی کو بھیج دیں لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف اس کو بھیجیں گے جو ہمارا اعتبار والا ڈاکٹر ہوگا، ہم نے کہا کہ چلیں ڈاکٹر عاصم کو بھیج دیں، جو رپورٹ آئی ہے پبلک ہوئی ہے وہ ایک مذاق ہے، اس کے دن صرف کلینکل ایگزامینیشن ہے، ڈائیگنوسٹک نہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے کہا کہ مجھے کسی چیز کا یقین نہیں ہے، وہ کسی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے، ایک رپورٹ میں ٹریٹمنٹ پلان بھی نہیں لکھا ہوا، آپ نے نان میڈیکل لوگوں کو بلا لیا، ہمیں جس چیز کی فکر تھی وہی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پوری دنیا سے ڈاکٹروں کے پیغامات آئے کہ یہ کیا لکھا ہے، اتنے عرصے سے ان کی بات سن رہے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں بس، جو انجکشن لگایا ہے اس سے فورا ٹھیک تھوڑی ہو جائے گا، ایک انجکشن سے نظر ٹھیک ہو گئی، یہ کوئی جادو تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی مانیٹرنگ ہوتی ہے، کیا انجکشن لگایا، زہر کا لگایا؟ یہ لوگ یہ کام کر سکتے ہیں، اگر سب کچھ ایسا ہی ہے جیسا یہ بتا رہے ہیں تو پھر ہمیں ملنے کیوں نہیں دیتے، ان کو ڈر کس بات کا ہے۔ڈاکٹر عظمی خان نے کہا کہ آخری ملاقات میں بانی نے مجھے ایک بات کہی تھی، میں نے کرنی نہیں تھی، بانی چئیرمین نے کہا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایسا کچھ کریں گے تو ہم ان کی نسلیں تباہ کر دیں گے، ہم ضرور نکلیں گے۔

علیمہ خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں چکری پر روک لیا گیا، چار سوا چار بجے تک ہمیں روکا گیا اور آج ہمارا پریس کانفرنس کرنا ضروری تھا، بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جو حالت بنی ہوئی ہے اس پر بات کرنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بشری بی بی کے ذریعے ہمیں پیغام ملا کہ بانی چیئرمین کہہ رہے ہیں میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے لہذا ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کی مجھ تک رسائی دلوائی جائے، وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا بلڈ ٹیسٹ انہیں دکھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ ہمیں جیل پر اعتبار کرنا چاہیے، جب ہمیں سلمان صفدر نے تفصیلات بتائی تھیں تو ہم جیل گئے تھے، ڈاکٹر عظمی تو فورا پیچھے پڑ جاتی ہیں اگر عمران خان کو تھوڑی سی بھی کھانسی آئے، اگر ایک انسان خود کہہ رہے ہے تو سوچیں اس کی حالت کیا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین نے کہا کہ میں دو ہفتوں تک کہتا رہا کہ مجھے نظر نہیں آرہا، سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا جائے کہ اتنے کیمرے لگے ہونے کے باوجود انہیں پتا نہیں چل رہا تھا کہ بانی کو نظر نہیں آرہا، اس کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں کریمنل نگلیجنس، ہم کہہ رہے ہیں کرمنل ایکٹ ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جگہ شفا انٹرنیشل اسپتال اسلام آباد ہے، عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر ساتھ ہوں اور فیملی ارکان ہوں، ہمیں پیغام دیا گیا کہ وہ تیار ہیں کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کروا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کنفوژن یہ ہوگئی کہ راولپنڈی والا نہیں اسلام آباد والا، کہا گیا کہ کسی بہن کو بانی چیئرمین سے ملاقات نہیں کرنے دی جائے گی تو ہم نے فورا ڈاکٹر برکی کا نام دیا، ہم ان کے ساتھ تعاون کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر برکی بھی قبول نہیں ہے اور کہا کہ جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے قاسم زمان کو بھیج دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر ہم نے کہا کہ وہ کیوں وہ تو ڈاکٹر بھی نہیں ہے، محسن نقوی نے سری لنکا جانے سے پہلے کہا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج ہو گا، یہ پیغام وہ ہے جو ہمیں دیا گیا، بانی چئیرمین کے ذاتی معالج اور ایک فیملی ممبر کو بھیجا جائے، یہ کون ہوتے ہیں بتانے والے کہ کون جائے گا۔

علمیہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ بہنیں قبول نہیں ہے ہم نے بہنوں کو لسٹ سے نکال دیا اور ہمیں اچانک پتا چلتا ہے کہ جیل میں ٹیم چلی گئی ہے، میڈیا ہی ہمیں بتا رہا تھا کہ بانی چئیرمین کو کہاں لے کر جا رہے ہیں، ہمیں کیا پتا تھا کہ سچ میں ایک ٹیم اڈیالہ بھیج دی گئی ہے اور شفا انٹرنیشنل کی کمٹنٹ پوری نہیں کی گئی اور ہمارے ڈاکٹروں کا انکار ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی جا ہی نہیں سکتے تو ہم کیسے کہیں کہ علاج ہو گیا ہے، آج بانی چئیرمین کا پیغام ہے کہ میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے اور ہم عدالتوں میں جا کر درخواستیں ڈال رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔