اسلام آباد (سب نیوز)جائیداد کے شعبے میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے جامع آن لائن جائیداد نظام کا اجرا کر دیا ہے۔مذکورہ نظام کے ذریعے ملک بھر کی 1026 رہائشی سوسائٹیوں کے منظور شدہ نقشہ جاتی منصوبے ایک کلک پر دستیاب ہوں گے۔یہ اقدام چیئرمین قومی احتساب بیورو کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا۔اس کا اعلان ڈائریکٹر جنرل کراچی شکیل احمد درانی اور ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد و راولپنڈی وقار احمد چوہان نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد)کے دورے کے موقع پر کیا۔نئے برقی نظام کا مقصد متاثرین کے حقوق کا تحفظ، تعمیر کنندگان کے لیے قوانین کو آسان بنانا، کاروباری برادری کو ہراسانی سے بچانا اور تعمیرات و ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔وقار احمد چوہان نے اس موقع پر کہا کہ یہ ڈیجیٹل اقدام ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ادائیگی کے باوجود خریداروں کو پلاٹ کی فائلیں نہ ملنے کا مسئلہ بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیادہ پایا جاتا ہے، جس کے ازالے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔نئے نظام میں فی الحال ایک ہزار سے زائد سوسائٹیوں کے منظور شدہ نقشہ جاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں اور مزید سوسائٹیوں کی منظوری کے ساتھ معلوماتی ذخیرے کو مسلسل تازہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ادارہ آباد کی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے اور شعبے کو درپیش مسائل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔شکیل احمد درانی نے انسداد بدعنوانی اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی سطح پر ڈیڑھ کھرب روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرائی جا چکی ہے، جبکہ مزید 10 کھرب روپے مالیت کے اثاثوں کی وصولی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ زمین سے متعلق مسائل کے حل کے لیے احتساب ادارے اور حکومت سندھ کے حکام پر مشتمل مشترکہ عملی دستہ قائم کیا جا رہا ہے، جس پر وزیر اعلی سندھ کی منظوری بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمین کی الاٹمنٹ میں صوابدیدی اختیارات اکثر بدعنوانی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے زمین کی فروخت کھلی نیلامی کے ذریعے ہونی چاہیے۔مزید یہ کہ واگزار کرائی گئی زمین کو عوامی مفاد کے لیے باغات میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تعمیراتی برادری کی قیادت نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ گزشتہ 14 برسوں میں احتساب ادارے اور آباد کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی کے لیے کراچی کی مکمل سرپرستی ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب احتساب ادارہ زمین کے مالکانہ حقوق پر اجازت نامہ جاری کر دے تو بعد ازاں تعمیر کنندگان کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں، اس اقدام سے شہر میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
