اسلام آباد(آئی پی ایس ) اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لائیوسٹاک اور ایگری فوڈ سیکٹر کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ تربیت “ون ہیلتھ ورک فورس ڈویلپمنٹ اینڈ کوآرڈینیشن” منصوبے کے تحت پاک ون ہیلتھ الائنس اور نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (این اے آر سی)کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔اس دو روزہ ایونٹ کا بنیادی مقصد لائیوسٹاک اور زراعت سے وابستہ پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی وبائی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہ سکیں۔
اس تربیتی پروگرام میں اسلام آباد کے لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے 34 فیلڈ آفیسرز، ویٹرنری ڈاکٹرز اور ٹیکنیکل سٹاف نے شرکت کی، جو بیماریوں کی رپورٹنگ، ویکسینیشن اور نگرانی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ انسانوں، جانوروں اور ماحول کے باہمی اشتراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مقابلہ تنہائی میں نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط “ون ہیلتھ” اپروچ، بروقت تشخیص اور مشترکہ ردعمل ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائیوسٹاک، زراعت اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان تعاون ہی قومی صحت کی سلامتی کی بنیاد ہے۔پروجیکٹ کے نیشنل کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود علی نے شرکا کو بتایا کہ انسانوں میں پھیلنے والی تقریبا 70 فیصد متعدی بیماریاں جانوروں سے منتقل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک مختلف شعبوں کے 100 سے زائد پیشہ ور افراد کو تربیت دی جا چکی ہے، جو کہ بیماریوں کے خلاف ایک موثر “ارلی وارننگ سسٹم” بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔دو روزہ تربیت کے دوران ماہرین نے متعدی بیماریوں کی وبائیات، انفیکشن کنٹرول، ریپڈ رسپانس ٹیموں کی کارکردگی، خطرات کے تجزیے اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اہم موضوعات پر لیکچرز دیے۔ پروگرام میں انٹرایکٹو سیشنز اور گروپ ورک کے ذریعے شرکا کو عملی مشقیں بھی کروائی گئیں۔اختتامی سیشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو مستقبل کی وباں سے محفوظ رکھنے کے لیے افرادی قوت کی مسلسل تربیت اور شعبوں کے درمیان ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ تربیت مکمل کرنے والے 34 شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ مہارتوں کو فیلڈ کی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کریں گے۔
