پشاور:(آئی پی ایس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم (ایکس )پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی صحت پر نہ میں خود سیاست کروں گا اور نہ ہی کسی کو کرنے دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم میں عمران خان صاحب کے لیے بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اس وقت غم اور غصہ پایا جا رہا ہے اُس کا مُجھے بخوبی احساس ہے، لیکن اس کو ہم نے اپنی کمزوری نہیں اپنی طاقت بنانا ہے۔ ہمیشہ سخت اور نازک وقت میں آپ کو اعصاب مضبوط رکھ کر حکمت سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کی پوشیدہ حکمت عملی ہی آپ کی بہترین طاقت ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان صاحب کوئی معمولی شخص نہیں وہ پاکستان کا سابقہ اور موجودہ وزیر اعظم ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہے۔ اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جو ناقابل معافی فعل ہے۔ اب اس وقت اُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نہ سوچے کہ میں عمران خان صاحب کے علاج تک آرام سے بیٹھوں گا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ اس وقت جو ورکرز بغیر کسی آفیشل کال کے اپنی مدد آپ کے تحت نکلے ہیں تو جہاں پر ہیں وہیں پُرامن رہیں اور نزدیکی ورکرز اُن کا ساتھ دیں۔ آپ سب نے آگے بھی پُرامن رہنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب کے مخالف جنہوں نے اُن کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ہم میں اپنے انتشاری لوگ شامل کر کے ہمارے پُرامن احتجاج کو کسی دوسری طرف لے جا کر ہمیں ہی نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تمام انتشاری لوگوں پر نظر رکھنی ہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہے۔ کسی بھی منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین نہیں کرنا جب تک عمران خان صاحب کی فیملی اور جماعت کسی بھی خبر کی تصدیق نہ کرے۔
سہیل آفریدی نے ٹوئٹ میں کہا کہ تمام پاکستانیوں کو میں یہ اعتماد دلاتا ہوں کہ ان شا اللہ آپ سب کے اعتماد، اتفاق و اتحاد اور سپورٹ سے عمران خان صاحب کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور فیملی کو اعتماد میں لے کر جلد از جلد ہوگا۔ یہ آپ سب کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے ساتھ ساتھ ہم نے اُن کی سیکیورٹی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کچھ چیزیں بتا کر کی جائیں گی اور کچھ چیزیں شاید فی الحال ہمارے سامنے نہ آئیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کا علاج 16 فروری تک ہوجانا چاہیے۔
