اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر خ تختایف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے حالیہ سرکاری دورہ اسلام آباد کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے نے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔وہ ازبکستان اور پاکستان اسٹریٹجک شراکت داری کی راہ پر: جمہوریہ ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزیایوف کے دورہ اسلام آباد کے نتائج کے عنوان سے منعقدہ گول میز مذاکرے سے خطاب کر رہے تھے۔
سفیر نے کہا کہ یہ دورہ روایتی دوستی، باہمی احترام اور اعتماد کے ماحول میں منعقد ہوا، جو صدیوں سے دونوں ممالک کے عوام کو باہم جوڑے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران بین الحکومتی اور بین الادارہ جاتی معاہدوں کا ایک جامع پیکیج طے پایا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، بینکاری و مالیات، کسٹمز تعاون، صنعتی اشتراک، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدے طویل المدتی اور منظم تعاون کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔اقتصادی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر تختایف نے کہا کہ بزنس فورم کے دوران 3.4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جس سے ایک نمایاں سرمایہ کاری پورٹ فولیو تشکیل پایا۔ صنعتی نمائش میڈ اِن ازبکستان بھی ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس نے ازبکستان کی صنعتی صلاحیت کو نمایاں کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو موجودہ 450 ملین ڈالر سے بڑھا کر آئندہ پانچ برسوں میں 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدف بظاہر بلند ضرور ہے مگر حقیقت پسندانہ ہے اور اسے عملی اقدامات اور روڈ میپس کی مدد حاصل ہوگی۔علاقائی روابط کے حوالے سے سفیر نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان 2026 تک پاکستان کی وزارتِ ریلوے کے تعاون سے اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے بعد مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دے کر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ٹرانسپورٹ روابط میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران علاقائی سلامتی اور افغانستان کی پائیدار ترقی بھی اہم موضوعات رہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کو عدم استحکام کا سبب بننے کے بجائے علاقائی تعاون اور رابطے کا پل بننا چاہیے، اور اس مقصد کے لیے اقتصادی انضمام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور انسانی امداد کو کلیدی ذرائع سمجھا جاتا ہے۔ثقافتی تعاون کے حوالے سے سفیر نے پاکستان میں ہفتہ ثقافتِ ازبکستان منعقد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس میں فنکار، مصور، ہنرمند، ڈیزائنرز اور فلم ساز شرکت کریں گے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے ایک پارک کے قیام کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور تجویز دی کہ وفاقی دارالحکومت کی ایک شاہراہ کا نام تاشقند رکھا جائے تاکہ پائیدار دوستی کی علامت قائم ہو سکے۔اسی تناظر میں انہوں نے لاہور میں بابری ورثے کے مطالعے کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی مرکز کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ یہ مرکز مغلیہ دور کی تاریخ، تعمیراتی یادگاروں، ادبی اور روحانی ورثے پر تحقیق کے لیے ایک علمی و ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اور مشترکہ کانفرنسوں، نمائشوں اور تقریبات کے انعقاد کے ذریعے نوجوان نسل میں مشترکہ ورثے کے احترام کو فروغ دے گا۔سفیر نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا اور ازبکستانپاکستان ورکنگ گروپ برائے تعلیم کے قیام کا اعلان کیا، جو اعلی اور فنی تعلیم، تعلیمی تبادلوں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں کو فروغ دے گا۔اپنے اختتامی کلمات میں سفیر تختایف نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک وسطی اور جنوبی ایشیا کو ایک مشترکہ مواقع کے خطے کے طور پر ابھارنے میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی اعتماد اور سیاسی عزم ہی اس شراکت داری کی اصل بنیاد ہیں۔
