Wednesday, February 11, 2026
ہومتازہ ترینیورپ اور یوکرین کے سفارتخانوں کے زیر اہتمام تقریب ، روسی جارحیت کی شدیدمذمت

یورپ اور یوکرین کے سفارتخانوں کے زیر اہتمام تقریب ، روسی جارحیت کی شدیدمذمت

اسلام آباد(سب نیوز) یورپی وفد، ٹیم یورپ اور یوکرین کے سفارت خانے نے بدھ کے روز روس کی فوجی جارحیت کے آغاز کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب پولینڈ کے سفارت خانے میں منعقد ہوئی، جس میں یوکرینی شہریوں پر جنگ کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے ڈاکیومنٹری اسکریننگ اور فوٹو نمائش بھی شامل تھی۔تقریب میں سفارتکاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، تھنک ٹینک کے نمائندگان، انسانی حقوق کے کارکنان، این جی اوز کے اراکین اور سول سوسائٹی کے رہنما شامل ہوئے، جنہوں نے یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اس کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کو دہرایا۔

یورپی یونین کے وفد، ٹیم یورپ اور یوکرینی سفارت خانے کے مشترکہ بیان میں روس کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی، خاص طور پر سرد موسم میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنانے کے اقدامات کو ناقابل قبول اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ بیان میں روس پر زور دیا گیا کہ وہ فورا جارحیت بند کرے، اپنی افواج واپس بلائے اور بامعنی امن مذاکرات میں شامل ہو۔ اس کے ساتھ ہی یورپی یونین نے یوکرین کے لیے مزید ارب یورو کی امداد دینے اور روس کے خلاف پابندیاں جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔یوکرینی سفیر مارکیان چچک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کی آزادی کی چار سالہ جدوجہد کا ذکر کیا اور جنگ کے انسانی نقصان کی تفصیلات بیان کیں، جن میں ایک لاکھ سے زائد روسی ہلاکتیں، ہزاروں یوکرینی جانوں کا ضیاع، بچوں کی اغوا اور لاکھوں افراد کا بے گھر ہونا شامل ہے۔ انہوں نے روس کی سامراجی خواہشات کی مذمت کی اور امن کے لیے یوکرین کی مستقل کوششوں پر زور دیا، جبکہ کہا کہ مفاہمت اور سیاسی ارادے کی ضرورت دونوں جانب سے ہے، جو فی الحال روس کی جانب سے موجود نہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا اور اسلام آباد سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے کردار کے ذریعے منصفانہ امن کے قیام میں فعال کردار ادا کرے۔یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے ٹیم یورپ کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کی ثابت قدمی کو سراہا اور یورپی یونین کی مکمل حمایت کو دہرایا۔ انہوں نے شہریوں، توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر روس کے حملوں کی مذمت کی، جن کی وجہ سے سردیوں میں لاکھوں افراد بغیر بجلی اور حرارت کے رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین روس پر معاشی دبا جاری رکھے گی، جس میں توانائی کی درآمدات میں کمی اور روسی خام تیل سے تیار شدہ مصنوعات پر پابندی شامل ہے۔ انہوں نے ہائبرڈ خطرات، سائبر حملوں اور غلط معلومات کے پھیلا کے حوالے سے یورپ کے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور پاکستان کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔جرمن سفیر ایڈوکیٹ ایانا لیپل نے یورپ کی حمایت کو دہرایا، یورپی یونین کی ارب یورو امدادی پیکج کا ذکر کیا، روس کے جنگی جرائم کی مذمت کی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے جبکہ روس اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات پر قائم ہے، اور ماسکو پر دبا جاری رہے گا۔پولش سفیر میچیج پسارسکی نے حالیہ روسی حملوں کی مذمت کی، جن میں شہری علاقوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے شہریوں پر دکھ پہنچانے کی جان بوجھ کر کی گئی حکمت عملی قرار دیا۔ انہوں نے پولینڈ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور روس سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ پولینڈ کے سفارت خانے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ روسی جارحیت عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، توانائی اور خوراک کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے، اور بین الاقوامی امن کو کمزور کرتی ہے۔تقریب کے شرکا نے مشترکہ طور پر کہا کہ روس کی جارحیت ختم کرنے کے لیے یوکرین کی مسلسل سفارتی اور عملی حمایت، روسی جنگی جرائم کے لیے جوابدہی، اور عالمی سطح پر مربوط کوششیں ضروری ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔