Wednesday, February 11, 2026
ہومدنیاپاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعوی

پاک بھارت جنگ میں دس طیارے گرائے گئے تھے،امریکی صدر ٹرمپ کا نیا دعوی

واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے دوران گرائے گئے طیاروں کی تعداد بڑھا کر 10کر دی ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے بیانات میں بھارت کے سات اور آٹھ طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔
فاکس بزنس پر بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران امریکا کی تجارتی پالیسی اور ٹیرف سے متعلق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کروائیں اور ان میں سے کم از کم چھ جنگیں ٹیرف کی وجہ سے ختم ہوئیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں متعلقہ ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے جنگ بند نہ کی تو ان پر ٹیرف عائد کردیا جائے گا کیونکہ وہ لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں وہ تمام ممالک سوال کرتے تھے کہ ٹیرف کا جنگ سے کیا تعلق ہے لیکن ان ممالک کو واضح کیا گیا کہ ان کی بات نہ مانی گئی تو ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی تھی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور حملے جاری تھے، اس دوران دس طیارے بھی گرائے گئے۔انٹرویو میں ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم ایک کروڑ جانیں بچانے پر انہوں نے مجھے سراہا کیونکہ میرے خیال میں یہ تنازع ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ٹیرف کا دبا نہ ہوتا تو یہ جنگ بندی ممکن نہ تھی۔انہوں نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان دہائیوں پر محیط تنازع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگست 2025 میں ان کی ثالثی میں ابتدائی امن معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی آئی۔انٹرویو کے دوران ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا اس وقت ایران کی طرف رواں دواں ہے، میرا خیال ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ بے وقوفی ہوگی۔ ہم نے پچھلی دفعہ جوہری طاقت چھینی تھی اس دفعہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہم مزید کیا کرسکتے ہیں۔
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے گزشتہ 50 برسوں کے تمام امریکی صدور کو تجارت کے معاملے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تجارت کے شعبے میں ان سے بہت بہتر ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس تنازع کے دوران طیارے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے پانچ طیارے گرائے جانے کی بات کی، اکتوبر میں یہ تعداد سات اور نومبر میں آٹھ طیاروں تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ تعداد دس ہوگئی ہے۔ٹرمپ بارہا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں تاہم بھارت ٹرمپ کے ان دعوں سے اختلاف کرتا آرہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی صدر ٹرمپ کی مداخلت اور ٹیرف لگانے کی دھمکی کے باعث ممکن ہوئی۔یاد رہے کہ اپریل 2025 میں بھارت نے بغیر کسی شواہد کے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جنگ ہوئی، جس میں پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔