اسلام آباد(آئی پی ایس )شہنشاہِ جاپان عزت مآب ناروہیتو کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر جاپان کے سفیر برائے پاکستان، عزت مآب مسٹر اکاماتسو شوئیچی نے 10 فروری کی شام اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ایک پروقار استقبالیہ دیا۔ پاکستان کے صدر عزت مآب آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی، جبکہ دیگر معزز شخصیات نے بھی اس موقع کی رونق بڑھائی۔
مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور شہنشاہِ جاپان کے تخت نشین ہونے کے بعد آٹھویں سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے سفیر اکاماتسو نے اس بات پر دلی مسرت اور تشکر کا اظہار کیا کہ انہیں یہ تقریب اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور معزز مہمانوں کے ہمراہ منانے کا موقع ملا۔
سفیر نے جاپان میں حالیہ سیاسی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ایوانِ زیریں (ہاس آف ریپریزنٹیٹوز) کے کامیاب عام انتخابات اور حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو وزیرِ اعظم سناے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کی قیادت میں حاصل ہونے والے مضبوط مینڈیٹ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی، کثیرالجہتی تعاون اور آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل (Free and Open Indo-Pacific) کے لیے جاپان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کے اہم کردار کو سراہا اور عالمی و علاقائی چیلنجز پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سفیر اکاماتسو نے اوسا کا-کانسائی ایکسپو 2025 میں پاکستان پویلین کی کامیابی کا ذکر کیا، جس نے نمائش کے زمرے میں برانز پرائز اور ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ حاصل کیے اور جاپانی عوام میں پاکستان کے بارے میں قربت اور دلچسپی کے احساس کو فروغ دیا۔ ایکسپو نے دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطحی تبادلوں کی بحالی کی بھی علامت بنائی، جن میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور وزیرِ اعظم کے خصوصی مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے جاپان کے سرکاری دورے شامل ہیں۔
آئندہ سال کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سفیر نے تین اہم شعبوں کی نشاندہی کی جن میں عوامی سطح پر روابط اور باہمی فہم و تعاون کو فروغ دینا، جن میں اس سال خزاں میں جاپان کے صوبہ آیچی کے شہر ناگویا میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز اور ایشین پیرا گیمز جیسے ایونٹس کے ذریعے عوامی تبادلے شامل ہیں؛اقتصادی تعاون، جس میں سرکاری ترقیاتی معاونت (ODA) کے تحت ین قرضہ منصوبوں کی بحالی، اور پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی صنعت میں تکنیکی اور افرادی صلاحیتوں کے تعاون کو وسعت دینا
جاپانی کھانوں کا فروغ، جنہیں جاپانی عوام کی طویل عمری کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا، اور سوشی، ٹیمپورا کے ساتھ ساتھ واگیو بیف جیسے معروف پکوانوں کا تعارفسفیر اکاماتسو نے اسلام آباد میں ایک مسجد پر حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان کی حکومت ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر اکاماتسو نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاپان اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط مزید فعال ہوں گے اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ایک مضبوط اور تعمیری شراکت داری پروان چڑھے گی۔
استقبالیے میں خصوصی طور پر تیار کردہ جاپانی واگیو بیف پیش کیا گیا۔ تقریب میں جاپانی روایتی فنون، اکیبانا اور بونسائی کی نمائش بھی شامل تھی، جنہیں لاہور سوگیستو اسٹڈی گروپ اور لاہور بونسائی سوسائٹی نے پیش کیا۔ اس کے علاوہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) اور جاپانی کمپنیوں بشمول ٹویوٹا انڈس موٹرز، سوزوکی، ہونڈا، ہینو، آئیڈیمِتسو، سوجِتسو اور کومون کے اسٹالز بھی لگائے گئے۔
