اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان کے سرکاری دورے پر آئی کمبوڈین وزیرِ تجارت چام نِمول نے وفد کے ہمراہ ایف پی سی سی آئی پریذیڈنٹ آفس کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل سے ہوئی۔ملاقات میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جدون، چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین، سینیئر بزنس لیڈر احمد چنائے سمیت دیگر کاروباری رہنماوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملکی معاشی ترقی کے لیے دیرپا اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں اہم بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد اور عالمی رہنماں کے دورے حکومتی ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈین وزیرِ تجارت کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ عاطف اکرام شیخ نے آئی ٹی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش پر زور دیتے ہوئے بزنس کمیونٹیز کے درمیان بی ٹو بی روابط کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ چند سال قبل ملکی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا تھا، مہنگائی 38 فیصد سے زائد اور شرح سود 22 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں معیشت استحکام کے بعد ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق معیشت کے تمام اعشاریئے مثبت ہیں اور عالمی ادارے بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کو قریب لانے اور بی ٹو بی روابط کے فروغ کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔کمبوڈین وزیرِ تجارت چام نِمول نے کہا کہ کمبوڈیا کی پاکستان سے درآمدات کا بڑا حصہ فارماسیوٹیکل مصنوعات پر مشتمل ہے، تاہم دیگر شعبوں میں بھی باہمی تجارتی حجم بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمبوڈین حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس فری اور منافع بخش سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کر رہی ہے اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو کمبوڈیا میں موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل نے کمبوڈین وزیرِ تجارت کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے معیشت کو استحکام کے راستے پر گامزن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ویژن کے باعث آج پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پیداواری لاگت میں کمی، سرمایہ کاروں کو سہولت دینا اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔چیئرمین کوآرڈینیشن ایف پی سی سی آئی ملک سہیل حسین نے کہا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کو ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
