اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے فعال اور نتائج پر مبنی کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی مشنز کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ہفتہ کو یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی عالمی ماحول میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو روایتی سفارتی کاموں سے آگے بڑھ کر پاکستانی مصنوعات اور خدمات کے لیے تجارت کے فروغ، مارکیٹ تک رسائی اور کاروباری میچ میکنگ کے لیے فعال طور پر سہولت فراہم کرنا ہو گی ۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ “پاکستانی برآمد کنندگان کو بیرون ملک شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ ہمارے سفارتی مشنز بروقت مارکیٹ انٹیلی جنس، B2B رابطوں کی سہولت فراہم کرکے تجارت سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مقامی کاروباروں اور غیر ملکی منڈیوں کے درمیان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں،”
آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانوں کے تجارتی سیکشنز کے عملہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ چیمبرز اور تجارتی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھتا ہو گئی تاکہ برآمد کنندگان کو عملی اور ٹارگٹڈ سپورٹ حاصل ہو سکے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ سفارتی مشنوں اور نجی شعبے کے درمیان قریبی روابط سے برآمدی مقامات کو متنوع بنانے، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر پاکستان کے تجارتی نقش کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
سردار طاہر محمود نے مزید کہا کہ سفارتی موجودگی کو ٹھوس تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے وزارت خارجہ، وزارت تجارت اور کاروباری برادری کے درمیان پائیدار ہم آہنگی ضروری ہے۔
آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیمبر بیرون ملک پاکستانی مشنوں کو کاروباری ان پٹ، برآمد کنندگان کے فیڈ بیک اور مارکیٹ کی صورت حال فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ زیادہ تجارت پر مرکوز سفارتی نقطہ نظر برآمدات کی ترقی، روزگار کی تخلیق اور مجموعی اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
