Thursday, February 5, 2026
ہومبریکنگ نیوزنیو یارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں

نیو یارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں

نیو یارک شاہ خالد خان، ریزیڈنٹ ایڈیٹر یو ایس اے

تصور کریں کہ آپ ایک ڈبل ڈیکر بس کی اوپر منزل پر بیٹھے ہیں، ٹھنڈی ہوا چہرے پر لپٹ رہی ہے، سامنے ٹائمز اسکوائر کی چمکتی دنیا پھیل رہی ہے، اور دور افق پر اسٹیچو آف لبرٹی کی مشعل روشنی بکھیر رہی ہے۔ بس آہستہ آہستہ مین ہٹن کی گلیوں سے گزر رہی ہے، ہر موڑ پر ایک نئی کہانی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ یہ محض ایک سیر نہیں، یہ تو نیو یارک کی روح کو چھونے، اس کی نبض کو محسوس کرنے کا سفر ہے – جہاں ہر سانس میں خواب کی خوشبو ہے، ہر دھڑکن میں نئی امید کا جوش، اور ہر کونے میں ایک ایسی حیرت انگیز خوبصورتی چھپی ہے جو دل کو چھو کر گزر جاتی ہے۔

بس اب ٹائمز اسکوائر کے بالکل سامنے سے گزری ہے۔ “دنیا کا کراس روڈز” کہلانے والا یہ مقام رات کو اتنا جگمگاتا ہے کہ لگتا ہے آسمان زمین پر اتر آیا ہو۔ بڑی بڑی ڈیجیٹل اسکرینیں، رنگ برنگی نیانی لائٹس، براڈوے کے چمکتے پوسٹرز، اور لاکھوں لوگوں کی بے چین ہلچل – یہ سب مل کر ایک ایسی جادوئی فضا پیدا کرتے ہیں کہ آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ یہاں کی تاریخ بھی کم دلچسپ نہیں: اصل میں لانگ ایکر اسکوائر تھا، جہاں گھوڑوں کی تجارت ہوتی تھی۔ 1904 میں دی نیو یارک ٹائمز نے یہاں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا تو نام ٹائمز اسکوائر پڑ گیا۔ 1907 سے نیو ایئر کی بال ڈراپ کی روایت شروع ہوئی، جو آج دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہے۔ 1970-80 کی دہائیوں میں یہ علاقہ جرائم اور تاریکی کا شکار تھا، مگر mayor Rudolph Giuliani اور بعد میں مائیکل بلومبرگ کی صفائی اور بحالی کی مہم نے اسے دوبارہ چمکا دیا۔ اب 2026 میں America250 کے جشن کے لیے خصوصی لائٹنگ، ایونٹس اور 4 جولائی کی آزادی کی 250 ویں برسی پر بھی بال ڈراپ کی تاریخی تیاریاں زوروں پر ہیں – ایک ایسی رات جو تاریخ رقم کرے گی۔

بس آگے بڑھ رہی ہے، ہڈسن دریا کی طرف۔ دائیں طرف اسٹیچو آف لبرٹی کی مشعل چمک رہی ہے – 1886 میں فرانس کا تحفہ، جو کروڑوں تارکین وطن کو نئی زندگی کا خواب دکھاتی رہی۔ بائیں طرف ایلِس آئی لینڈ، جہاں سے لاکھوں نے امریکہ میں اپنے قدم جمائے۔ نیو یارک کی تاریخ ایک حیران کن سفر ہے: سب کچھ 1524 میں اطالوی ایکسپلورر جیووانی دا ویرازانو کے ہاربر دیکھنے سے شروع ہوا۔ 1609 میں ہینری ہڈسن نے ڈچوں کی طرف سے تلاش کی۔ 1624 میں ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی نے نیو ایمسٹرڈیم کی بنیاد رکھی – مین ہٹن کو مقامی لیناپی قبائل سے خرید کر۔ 1664 میں انگریزوں نے بغیر لڑائی کے قبضہ کر لیا اور نام نیو یارک رکھا۔ امریکی انقلاب میں یہ اہم تھا؛ 1789 میں جارج واشنگٹن نے یہاں صدارت کا حلف اٹھایا۔ 19ویں صدی میں امیگریشن کا مرکز بنا۔ 1898 میں پانچ بوروز ملا کر جدید نیو یارک سٹی وجود میں آیا۔ 20ویں صدی میں مالیاتی، صنعتی اور ثقافتی طاقت بنا – ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ (1931)، ورلڈ ٹریڈ سنٹر، اور 2001 کے 9/11 حملوں کے بعد کی لچک نے اسے مزید پختہ کیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک چھوٹی ڈچ کالونی سے دنیا کا سب سے طاقتور اور متحرک شہر بن گیا۔

بس اب سینٹرل پارک کے کنارے سے گزر رہی ہے۔ 843 ایکڑ کا یہ سبز جنت شہر کی ہلچل سے دور ایک سکون بخش پناہ گاہ ہے۔ بہار میں چیری بلاسم کی بارش، گرمیوں میں آؤٹ ڈور کنسرٹس، خزاں میں رنگ برنگے پتے – یہاں بیٹھ کر لگتا ہے جیسے شہر کا دل یہاں دھڑک رہا ہو۔ آگے ہائی لائن نظر آ رہی ہے – پرانی ریلوے لائن کو تبدیل کر کے بنایا گیا 1.45 میل کا ایلیویٹڈ پارک، جہاں پیدل چلتے ہوئے شہر کی نبض محسوس ہوتی ہے۔ لٹل آئی لینڈ (ہڈسن دریا پر تیرتا پارک)، گرینڈ سنٹرل ٹرمینل کی وِسپرنگ گیلری (جہاں دور کھڑے ہو کر بھی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں)، اور بروکلن برج – یہ سب دیکھ کر دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ نیو یارک میں چھپے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔

یہ شہر امریکہ کا مالیاتی اور کاروباری مرکز ہے۔ وال سٹریٹ پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ ہے، جہاں سے عالمی معیشت کی دھڑکن چلتی ہے۔ فیڈرل ریزرو بینک آف نیو یارک کے والٹ میں تقریباً 13.38 ملین اونس (تقریباً 416 ٹن) سونے کا ذخیرہ ہے – عالمی مالیاتی استحکام کی ایک شان دار علامت۔ ٹورزم کی بات کریں تو 2025 میں تقریباً 64.7 ملین سیاح آئے، جنہوں نے اربوں ڈالر کا معاشی اثر چھوڑا – 2026 میں فٹ بال ورلڈ کپ اور America250 کے جشن کی وجہ سے یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

ثقافتی ورثہ بھی لازوال ہے: میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ (دی میٹ) اور موڈرن آرٹ کا میوزیم (MoMA) فن کی دنیا ہیں۔ براڈوے کے تھیٹرز ہر رات نئی کہانیاں جنم دیتے ہیں۔ لنکن سنٹر اور میٹروپولیٹن اوپیرا موسیقی کے شاہکار ہیں۔

اس شہر کا سب سے حسین رنگ اس کا تنوع ہے – تقریباً 800 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی تو دل کی دھڑکن ہے۔ نیو یارک سٹی میں پاکستانی نژاد لوگوں کی تعداد تقریباً 55,000 سے 60,000 ہے (ریاست نیو یارک میں 96,000 سے زائد، میٹرو ایریا میں 1 لاکھ سے زیادہ کا تخمینہ)۔ لٹل پاکستان (بروکلن کا Coney Island Avenue) میں پاکستانی دکانیں، ریسٹورنٹس اور ہلال مارکیٹیں ہیں جہاں بریانی، نہاری، حلیم اور گول گپوں کی خوشبو گلیوں میں گھل مل جاتی ہے۔ عید، یوم آزادی (14 اگست)، کرکٹ ٹورنامنٹس، اور اردو کی محافلیں جہاں غالب، فیض، اقبال اور پروین شاکر کی شاعری گونجتی ہے۔ مکی مسجد، مسجد الاحسان اور دیگر مساجد سے اذان کی آواز شہر کی ہلچل میں سکون بخشتی ہے۔ یہ کمیونٹی نہ صرف اپنی ثقافت کو زندہ رکھتی ہے بلکہ شہر کی معیشت اور سماجی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔