Thursday, February 5, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاکستان اور تھائی لینڈ کا ورثہ مشترک،ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے: تھائی لینڈ کے سفیر

پاکستان اور تھائی لینڈ کا ورثہ مشترک،ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے: تھائی لینڈ کے سفیر

اسلام آباد(آئی پی ایس )تھائی لینڈ کے سفیر رونگ ودھی ویرا بوتر نے کہا ہے کہ پاکستان اور تھائی لینڈ ایک مشترکہ ثقافتی ورثے، بالخصوص قدیم گندھارا تہذیب، کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے۔ اگرچہ تجارتی اعداد و شمار اپنی اہمیت رکھتے ہیں، مگر دوستی کے رشتے، باہمی احترام اور مشترکہ تاریخ ہی وہ عناصر ہیں جو ہماری شراکت داری کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور پائیدار بناتے ہیں۔

سفیر کے مطابق پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان قدیم گندھارا تہذیب کا تاریخی رشتہ موجود ہے جو ہمارے موجودہ تعلقات کے لیے ایک منفرد اور مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی تعلق نہ صرف ہمارے روابط کو تقویت دیتا ہے بلکہ تھائی سیاحوں کے لیے بھی ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس عظیم تہذیب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔تھائی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم ثقافتی سفارتکاری کو فعال طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔ اس کی ایک نمایاں مثال فاسٹنگ بدھا (روزہ دار بدھا) کے مجسمے کی نقل کا حالیہ تحفہ ہے جو تھائی لینڈ کو پیش کیا گیا، جس نے دوستی اور باہمی تفہیم کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے سال سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر بنکاک میں ایک بڑی گندھارا نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات سیاحت کے فروغ، تعلیمی تبادلوں کے فروغ اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں، جو طویل المدتی دوطرفہ کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی، صحت اور ماحولیاتی مزاحمت کے شعبوں میں تعاون سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تھائی سفیر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل جدید شعبوں میں باہمی تعاون سے جڑا ہوا ہے۔ ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور صحت کے میدان میں تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور تھائی لینڈ کی مرکزی اسلامی کونسل کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک شراکت داری اسی عزم کا عملی ثبوت ہے۔

اس تعاون کے تحت ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے، جن میں پاکستانی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا جیسے جدید شعبوں میں تعلیم کے لیے وظائف، اور تھائی لینڈ میں ایک علاقائی حلال سائنس سینٹر کا قیام شامل ہے۔سفیر کے مطابق یہ منصوبے نہ صرف ہماری برادریوں کو بااختیار بنائیں گے بلکہ صحت اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عالمی اہداف میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ ادھر تھائی لینڈ صحت کے شعبے میں بھی اپنی سفارتکاری کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے تحت پاکستان کے ساتھ یونیورسل ہیلتھ کوریج اور بنیادی صحت کی سہولیات سے متعلق تجربات اور بہترین عملی طریقے شیئر کیے جا رہے ہیں، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تھائی ماڈل پر مبنی ہیں۔

پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات سے متعلق سوال پر سفیر نے کہا کہ یہ سفر مستقل اور ارتقائی دوستی کا عکاس ہے، جو باہمی احترام اور مشترکہ اصولوں پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1951 میں قائم ہوئے اور تب سے یہ تعلقات ایک مضبوط اور کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون نے نمایاں ترقی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں ہم نے عالمی چیلنجز کا مل کر سامنا کیا اور اسی نے ہمیں مستقبل میں مزید قریبی تعاون کے عزم کو مضبوط کیا ہے۔ پاکتھائی تعلقات کی نمایاں کامیابیوں کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ سب سے بڑی کامیابیاں وہ ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان سمجھ بوجھ کے پل تعمیر کیے۔

بالخصوص گندھارا کے مشترکہ ورثے کے ذریعے ثقافتی اور تعلیمی روابط میں اضافہ ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ فاسٹنگ بدھا کے مجسمے کی پیشکش اور آئندہ گندھارا نمائش محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ عوامی روابط کے ایک نئے دور کی راہ ہموار کرنے کے طاقتور ذرائع ہیں۔اقتصادی محاذ پر انہوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات میں پیش رفت، مشترکہ کمیشن کی بحالی اور جوائنٹ اکنامک کمیشن کی سرگرمیوں کی بحالی کو اہم کامیابیاں قرار دیا، جو معاشی شراکت داری کے لیے نئے عزم کا اظہار ہیں اور ایک خوشحال و مربوط مستقبل کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔آئندہ دہائی کے لیے اپنے وژن کے حوالے سے تھائی سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے تعلقات کو ایک حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا وژن ایک ایسا تعلق ہے جو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہو، جہاں دوطرفہ تجارت 2.2 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے،

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔