بیجنگ : چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ حالیہ عرصے میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد مواقع پر چینی کمپنیوں کے اہلکاروں کو طویل عرصے تک بلاجواز طور پر روک کر تفتیش کی، حراست میں لیا اور واپس بھیجا۔ایسی کارروائیوں سے چینی شہریوں کے جائز حقوق و مفادات کی سنگین خلاف ورزی ہوئی،
فریقین کے درمیان معمول کے تجارتی تبادلے اور عوامی روابط کو شدید نقصان پہنچا، اور یہ دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کے بوسان میں ہونے والی ملاقات کے دوران اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ سے متعلق طے پانے والے اتفاقِ رائے سے بھی صریحاً متصادم ہے۔ چین اس پر شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔
چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ چین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے، اور مطالبہ کرتا ہے کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر اپنی غلط کارروائیاں بند کریں اور چینی کمپنیوں کے اہلکاروں کی بلاجواز تلاشی اور پوچھ گچھ کا سلسلہ ختم کریں۔ چین اپنے شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط اور مؤثر اقدامات جاری رکھے گا۔
