Thursday, February 5, 2026
ہومتازہ ترینچین اور دنیا کے تعاون سے وافرثمرات برآمد ہو سکتے ہیں، چینی میڈیا

چین اور دنیا کے تعاون سے وافرثمرات برآمد ہو سکتے ہیں، چینی میڈیا

بیجنگ : سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے مستقبل کی صنعتوں میں پیش رفت اور اس کے امکانات کے حوالے سے ایک اجتماعی مطالعہ اجلاس کا انعقاد کیا۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم نصب العین کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے کام لینا ہوگا، معروضی حالات کی بنیاد پر اپنی برتریوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا اور استحکام کے ساتھ پیش رفت کرنے کے اصول پر قائم رہتے ہوئے مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کو مسلسل فروغ دینا ہوگا۔

چین کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے ملک کی طویل مدتی ترقی سے متعلق اسٹریٹجک موضوع پر توجہ مرکوز کرنے سے نہ صرف ” پندہویں پانچ سالہ منصوبے” کے دوران چین کے صنعتی ڈھانچے کی اپ گریڈنگ اور قوت محرکہ کی تبدیلی کے لیے اہم سمتوں کا واضح طور پر خاکہ پیش کیا گیا ہے، بلکہ صنعت اور ٹیکنالوجی کے عالمی انقلاب کی نئی لہروں میں دنیا کی اقتصادی بحالی اور پائدار ترقی کے لئے مضبوط محرک وقت فراہم کی گئی ہے۔مستقبل کی صنعتیں جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے وہ ابھرتے ہوئی صنعتیں ہیں، جو ابھی تک ترقی یا صنعت کاری کے ابتدائی مراحل میں ہیں، اور اسٹریٹجک، رہنما، انقلابی ، اور غیر یقینی خصوصیات کی حامل ہیں۔اس وقت، عالمی تکنیکی اور صنعتی انقلاب کا ایک نیا دور بے مثال کثافت اور تحرک کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، بائیو مینوفیکچرنگ، کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن، اور برین کمپیوٹر انٹرفیس جیسی انقلابی ٹیکنالوجیز تیزی سے لیبارٹری سے مارکیٹ میں منتقل ہو رہی ہیں،جس سے عالمی مسابقتی منظر نامے کو ایک نئی شکل مل رہی ہے ۔

مختلف ممالک برتری کے حصول کے لئے یکے بعد دیگرے پالیسیاں متعارف کروا رہے ہیں جس میں امریکہ کا لامتناہی فرنٹیئرز ایکٹ ، یورپی یونین کی مستقبل کے لیے صنعتی چین کو مضبوط بنانے کی رپورٹ، اور عالمی صنعتی مقابلوں کے منظر نامے کا ازسرنو ترتیب دیا جا نا شامل ہیں ۔ اس پس منظر میں، چین کی مستقبل کی صنعتوں کی تزویراتی ترقی نہ صرف اس کی اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ایک فطری ضرورت ہے بلکہ عالمی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک ناگزیر انتخاب بھی ہے۔مستقبل کی صنعتوں کی ترقی میں چین کے پٌاس منفرد برتریاں موجود ہیں۔ نیا قومی نظام جدید تکنیکی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے وسائل کو اکٹھا کر سکتا ہے، دنیا کا سب سے مکمل صنعتی نظام تکنیکی نتائج کی منتقلی کے لیے ٹھوس مدد فراہم کرتا ہے، اور انتہائی بڑی مارکیٹ نئی ٹیکنالوجیز کے اطلاق کے لیے وافر منظرنامے فراہم کرتی ہے۔ ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی 2025 کی گلوبل انوویشن انڈیکس رپورٹ کے مطابق، چین پہلی بار گلوبل انوویشن انڈیکس میں چوتھی پوزیشن کے ساتھ ٹاپ ٹین میں داخل ہوا ہے، اور یہ چین کی اب تک کی سب سے اعلیٰ درجہ بندی ہے ۔

گلوبل کریٹیکل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز انڈیکس کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق چین مسلسل تیسرے سال دنیا کے ٹاپ 100 اختراعی کلسٹرز کی تعداد میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ کامیابیاں چین کی اختراعی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری کو ظاہر کرتی ہیں اور مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم کرتی ہیں۔چین کی مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کبھی بھی بند کمرے میں نہیں کی جاتی بلکہ شروعات ہی سے کھلے پن اور تعاون کے تصور پر قائم رہی ہے۔ سی پی ٹی پی پی اور ڈی ای پی اے جیسے اعلیٰ بین الاقوامی تجارتی اور اقتصادی معیارات سے ہم آہنگ ہونے سے لے کر بڑے پیمانے پر سائنسی سہولیات جیسے کہ “چائنا اسکائی آئی” اور مکمل طور پر سپر کنڈکٹنگ ٹوکامک نیوکلیئر فیوژن تجرباتی ڈیوائس کے اشتراک تک، چین “ماحول کی مشترکہ تعمیر” کے ایک نئے ماڈل کے ذریعے عالمی سائنسی اور تکنیکی تعاون میں گہرائی سے حصہ لے رہا ہے۔ 2025 تک، چین نے 70 سے زیادہ بیلٹ اینڈ روڈ جوائنٹ لیبارٹریز کی تعمیر کو فروغ دیا، 80 سے زیادہ شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون کے سائنسی اور تکنیکی تعلقات قائم کیے، 120 سے زائد بین الحکومتی سائنسی اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے، اور 200 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں اورکثیر الجہتی میکانزم میں شمولیت اختیار کی اور “بنیادی تحقیق – اطلاقی ترقی – کامیابی کی تبدیلی – صنعتی انکیوبیشن” کا نیا عالمی اختلاعاتی کلوز سرکل قائم کیا ہے۔

مستقبل کی صنعتوں کے بہت سے شعبوں میں چین کے کھلے تعاون کے وافر ثمرات دکھائی دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپپیریمنٹل ری ایکٹر (ITER) منصوبے میں، چین نے تقریباً 10فیصد پروکیورمنٹ مشن انجام دیتے ہوئے عالمی “مصنوعی سورج” کے منصوبے میں کلیدی قوت فراہم کی ہے ۔ انٹرنیشنل مون ریسرچ سٹیشن کی تعمیر نے 17 ممالک کی شرکت کو راغب کیا، اور چاند کے تاریک علاقوں کے نمونے اور چاند کی تلاش کے پے لوڈ وسائل عالمی تعاون کی ایک کڑی بن گئے۔ ربوٹ کیمسٹری ٹیکنالوجی کو جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں فروغ دیا گیا،

جس سے ترقی پذیر ممالک کو توانائی اور ادویات کے شعبوں میں تکنیکی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملی۔ یہ طرز عمل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ “سائنس امن کے لیے ایک محرک قوت ہے” ۔ یہ عالمی جدت طرازی کی کامیابیوں کے جامع اشتراک کو فروغ دینے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر چین کی ذمہ داری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اس وقت، عالمی تکنیکی مقابلہ اور تعاون بیک وقت موجود ہے، اور صرف مشترکہ کوششوں سے ہی ہم مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کو روشن کر سکتے ہیں۔ چین اپنی برتریوں سے فائدہ اٹھانا جاری رکھے گا اور نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک آزاد، کھلا اور ہم آہنگ طریقہ اپنائے گا تاکہ بنی نوع انسان کے ایک قریبی اور زیادہ خوشحال ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دے ۔ انسانیت کے مستقبل سے وابستہ اس صنعتی انقلاب میں، چین کی تلاش اور جدوجہد یقیناً عالمی اقتصادی ترقی کے لیے نیا میدان کھولے گی اور پائیدار انسانی ترقی کے لیے ایک نیا باب رقم کرے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔