بیجنگ: 2025 میں چین نے دیہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو تیز کیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے تمام قصبوں اور 95 فیصد گاؤں میں 5جی نیٹ ورک کی رسائی ممکن ہو گئی۔ اس اقدام نے زرعی و دیہی جدید کاری کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
اتوار کے روز چینی میڈیا نے بتا یا کہاعداد و شمار کے مطابق 2015 کے بعد سے چین میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار گاؤں میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تعمیر کی گئی، جبکہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار 4جی اور 5جی بیس اسٹیشن قائم کیے گئے۔ اس وقت دیہی علاقوں میں براڈبینڈ صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ دیہی انٹرنیٹ کی شرحِ نفوذ 69 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ملک بھر کے تمام پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ ٹیلی میڈیسن سروس نیٹ ورک تمام شہروں اور کاونٹیوں تک پھیل چکا ہے۔ اس طرح دور دراز علاقوں میں مواصلاتی سہولیات کی کمی کا مسئلہ بنیادی طور پر حل ہو گیا ہے۔پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں نئی بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو مزید تیز کرے گا، تاکہ دیہی علاقوں، زراعت اور کسانوں کو زیادہ جدید نیٹ ورک صلاحیت اور زیادہ ہمہ گیر ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کی جا سکیں اور دیہی و زرعی شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دیا جا سکے۔
