ڈلاس، ٹیکساس (شاہ خالدخان )
– تصور کریں… ایک رات جب آسمان ٹیکساس کا سیاہ مخمل بن جائے اور بگ بینڈ کے صحرا میں لاکھوں ستارے جیسے کوئی الماری کھول دی گئی ہو، تو آپ کی آنکھیں حیرت سے پھیل جائیں گی۔ دل چیخ اٹھے گا: “یہ تو بس خواب ہے!” لیکن نہیں… یہ خواب نہیں، یہ ٹیکساس ہے!
یہاں ہل کنٹری کی پہاڑیوں پر جب بہار آتا ہے تو لاکھوں نیلے بلیو بونیٹس جیسے کوئی نیلا سمندر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ گلف کوسٹ کے ساحلوں پر سمندری کچھوؤں کی ماں بچوں کو سکھاتی ہے کہ “بیٹا، زندگی سمندر کی طرح ہے – لہروں سے ڈرنا نہیں، ان کے ساتھ چلنا ہے۔” اور Palo Duro Canyon کی گہرائی میں ہوا جب گنگناتی ہے تو لگتا ہے کوئی قدیم دیوتا ابھی ابھی گانا گا کر سو گیا ہے۔
یہ زمین نہیں، یہ ایک زندہ افسانہ ہے جو ہر صبح نئی کہانی سناتا ہے۔
اور پھر شہر… اوہ شہر! ہیوسٹن جہاں 145 زبانیں ایک ساتھ گنگناتی ہیں جیسے کوئی عالمی کنسرٹ چل رہا ہو۔ آرلنگٹن جو تنوع کی بادشاہت ہے۔ ڈلاس جو رات کو روشنیوں سے جگمگاتا ہے جیسے کوئی ہیروئن اپنی چمک دکھا رہی ہو۔ آسٹن جہاں لائیو میوزک کی دھنوں میں دل ڈوب جاتا ہے۔ یہ شہر نہیں، یہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔
اور اس گلے ملنے میں ایک آواز سب سے بلند ہے – اردو کی آواز!
جی ہاں، ٹیکساس میں پاکستانی کمیونٹی کا جادو الگ ہے۔ ہیوسٹن کی گلیوں میں بریانی کی خوشبو، ڈلاس کی مساجد سے اذان کی گونج، آرلنگٹن کے پارکس میں کرکٹ کے میچ جہاں “چھکا!” کی آواز پاکستان کو یاد دلا دیتی ہے۔ عید پر رنگ برنگی لباس، یوم آزادی پر جھنڈے لہراتے، بسنت پر ہلدی اور گلیوں میں رقص… یہ سب ٹیکساس کو پاکستان کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بنا دیتا ہے۔
اردو یہاں زندہ ہے، سانس لیتی ہے۔ گھروں میں ماں بچوں کو کہانیاں سناتی ہے، دکانوں پر “بھائی صاحب، کیا حال ہے؟” کی آواز گونجتی ہے، کمیونٹی سینٹرز میں غالب اور فیض کی شاعری پڑھی جاتی ہے۔ یہ زبان صرف لفظ نہیں، یہ دل کا رشتہ ہے جو ہزاروں میل دور بھی پاکستان سے جوڑے رکھتی ہے۔
اور میں… میں اس کہانی کا ایک چھوٹا سا کردار ہوں۔
15 مارچ 2023 کو جب میں اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان سے ٹیکساس آیا تھا، تو دل میں صرف ایک خوف تھا: “کیا یہاں ہم گھر محسوس کریں گے؟”
آج وہی دل چیخ کر کہتا ہے: “یہاں سے زیادہ گھر کہیں نہیں!”
میں ڈیلی سب نیوز کے ساتھ امریکہ میں منسلک ہوں – اردو میں پاکستانی کمیونٹی کو خبریں، تجزیے اور کہانیاں پہنچاتا ہوں۔ سینکڑوں ایونٹس کور کیے: T20 ورلڈ کپ کے وہ سنسنی خیز لمحات ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کی دل دہلا دینے والی میچز، اور سب سے بڑھ کر 2024 کے امریکی صدارتی الیکشن – جہاں میں نے ٹرمپ کی واپسی کو قریب سے دیکھا، مہم جوئی کی، نتائج کی رپورٹنگ کی اور راتوں کو جاگ کر لکھا کہ “امریکہ بدل رہا ہے”۔
یہ سب کرتے ہوئے میں نے سیکھا کہ صحافت صرف خبر نہیں، یہ لوگوں کی آواز ہے، ان کی جدوجہد ہے، ان کی امید ہے۔
لیکن ایک زخم اب بھی تازہ ہے: ٹیکساس میں کم سے کم اجرت اب بھی $7.25 فی گھنٹہ پر جمود کا شکار ہے۔ 2009 سے کوئی تبدیلی نہیں! جبکہ دنیا بھر کی ریاستیں $15، $16، $17 تک پہنچ چکی ہیں، ٹیکساس کے لاکھوں محنت کش – جن میں ہمارے بہت سے پاکستانی بھائی بہن بھی شامل ہیں – آج بھی 17 سال پرانی تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں۔ رہائشی اخراجات آسمان چھو رہے ہیں، بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، دوائی… سب کچھ مہنگا، مگر اجرت وہی پرانی!
یہ ناانصافی ہے۔ یہ درد ہے۔ اور یہ درد بدلنا چاہیے۔
کیونکہ ٹیکساس صرف تیل اور ٹیک کی ریاست نہیں، یہ محنت کشوں کی ریاست ہے۔ یہ ان لوگوں کی ریاست ہے جو خواب لے کر آتے ہیں اور محنت سے انہیں سچ کرتے ہیں۔
تو آئیے، ٹیکساس کی اس خوبصورتی کو، اس تنوع کو، اس پاکستانی دل کو، اس اردو کی آواز کو اور اس محنت کو سلام کریں۔
اگر آپ کبھی یہاں آئیں تو صرف دیکھنے نہیں آئیں… محسوس کرنے آئیں۔ کیونکہ یہاں ہر سانس میں پاکستان کی خوشبو ہے، ہر دھڑکن میں امید ہے، اور ہر کہانی میں ایک نیا آغاز چھپا ہے۔
(شاہ خالد خان – ایک پاکستانی دل، ٹیکساس کی روح، اردو کی آواز اور ڈیلی سب نیوز کا فخریہ نمائندہ)
