تحریر :چوہدری شفقت محمود دھول ،صدر پاکستان انوسٹر فورم جدہ سعودی عرب
پاکستان کی معیشت کا پہیہ جس خونِ جگر سے چلتا ہے، وہ اکثر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی محنت سے کمائی گئی ترسیلاتِ زر ہوتی ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجنے والے اوورسیز پاکستانی محض مالی معاون نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے سب سے بڑے غیر اعلانیہ سفیر ہیں۔ انہی کے لیے ادارہ برائے اوورسیز پاکستانی (OPF) قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے ہی وطن میں بے یار و مددگار نہ رہیں۔ مگر آج ایک اوورسیز پاکستانی ناصر اعوان کا مقدمہ اس ادارے کے وجود پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
ناصر اعوان کوئی سیاست دان نہیں، نہ بااثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ان لاکھوں پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے برسوں پردیس میں مشقت کر کے وطن میں زمین خریدی، خواب بسائے اور مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ تمام قانونی دستاویزات، ریونیو ریکارڈ اور ملکیتی ثبوت موجود ہونے کے باوجود طاقت ور قبضہ گروہوں نے ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے قانون کا راستہ اپنایا، تھانوں اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر انصاف فائلوں میں دفن ہوتا چلا گیا۔ یہ تاخیر محض عدالتی سستی نہیں، بلکہ ایک انسان کی زندگی پر براہِ راست وار ثابت ہوئی۔
ریاستی بے حسی اور مسلسل ناانصافی نے ناصر اعوان اور ان کے خاندان کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ انہوں نے تین مرتبہ انتہائی مایوسی کے عالم میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ جملہ لکھنا بھی شرم ناک ہے، مگر اس سے زیادہ شرم ناک یہ ہے کہ یہ سب ایک اوورسیز پاکستانی کے ساتھ اس کے اپنے ملک میں ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک کیس نہیں، یہ نظام کی ناکامی کی دستاویز ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ زمین کس کی ہے—سوال یہ ہے کہ اگر ایک اوورسیز پاکستانی اپنی کمائی، جان اور عزت کے تحفظ کے لیے ریاست کی طرف دیکھے اور جواب میں خاموشی پائے تو پھر OPF کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟
کیا OPF صرف سیمینارز، بیانات اور رسمی ملاقاتوں تک محدود ہے؟ یا پھر وہ واقعی اوورسیز پاکستانیوں کی ڈھال بننے کے لیے قائم کیا گیا تھا؟
اوورسیز پاکستانیوں کو مسلسل یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں، رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگائیں، وطن سے جڑیں۔ مگر ناصر اعوان جیسے کیسز ایک خوف ناک پیغام دیتے ہیں کہ طاقت ور قبضہ کر سکتا ہے، انصاف خاموش رہ سکتا ہے اور ادارے تماشائی بن سکتے ہیں۔
ادارہ برائے اوورسیز پاکستانی سے پُرزور مطالبہ ہے کہ ناصر اعوان کے کیس کا فوری نوٹس لیا جائے، ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور اس کیس کو مثالی فیصلہ بنا کر اوورسیز پاکستانیوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
اوورسیز پاکستانی کسی رعایت کے طلب گار نہیں، وہ صرف انصاف مانگتے ہیں۔ اگر ان کی کمائی، جان اور وقار محفوظ نہ رہے تو یاد رکھیے، یہ صرف ایک خاندان کی شکست نہیں ہوگی بلکہ ریاست پر اعتماد کا جنازہ ہوگا۔
ناصر اعوان کا مقدمہ ایک زمین کا تنازع نہیں، یہ ریاستی ذمہ داری، انسانی وقار اور OPF کے مقصدِ وجود کا کڑا امتحان ہے۔ اب یہ فیصلہ اداروں نے کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں محافظ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے یا خاموش تماشائی کے طور پر
